خبردار!شام میں ایک بار پھر صف ماتم بچھے گی


واشنگٹن( 24نیوز ) شام میں جنگ کے خطرات بڑھ گئے، امریکا ، برطانیہ اور فرانس نے مشترکہ کارروائی پر اتفاق کرلیا، سعودی عرب نے بھی امریکی اتحاد میں شامل ہونے کا عندیہ دے دیا،شامی فوج نے بھی بری ، بحری اور فضائیہ کو الرٹ کردیا۔
بمباری اورہلاکتوں سے شامی باشندوں کی شامیں پہلےہی موت کی وادی بن چکی ہیں۔۔اب امریکا پھر شام میں حملے کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے۔خطے میں موجود جنگی جہاز نے پوزیشن سنبھال لی ہے۔۔ شامی فوج نے بھی اپنی بری ، بحری اور فضائیہ کو الرٹ کردیا جبکہ اسرائیل نے سرحد پر اپنی افواج کو الرٹ کردیا ۔
ادھر روس نے شام میں کیمیائی اسلحے کے استعمال کی تحقیقات سے متعلق سلامتی کونسل میں امریکی قرارداد ویٹو کردی ہے،روسی مندوب کہتے ہیں امریکا کو ایک سال پہلے کی طرح حملے کا بہانا چاہیے۔
شام کی کشیدہ صورتحال کے باعث امریکی صدر نے لاطینی امریکا کا دورہ منسوخ کر دیا، ڈونلڈ ٹرمپ شام کو امریکی جواب کی نگرانی خود کرنا چاہتے ہیں،سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نےبھی فوجی کارروائی میں سعودی عرب کے شامل ہونے کاعندیہ دیدیا ہے۔برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے امریکی صدر اور فرانسیسی صدرکو فون کیا،تینوں ملکوں کے سربراہان نے شام کے خلاف مشترکہ کارروائی پر اتفاق کرلیا۔
یاد رہے کہ شام کی سرزمین پر اب امریکہ اور روس آمنے سامنے آگئے ہیں۔ امریکہ کا دعوی ہے کہ وہ یہ جنگ دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف لڑرہے ہیں مگر حقیقت میں یہ جنگ صرف اور صرف اسرائیل کے مفادات کے تحفظ کے لئے ہے۔ اسرائیل کو ہمیشہ سے ہی دو قوتوں سے خطرہ رہا ہے جن میں حزب اللہ اور ایران سر فہرست ہیںاور امریکہ کی جانب سے ہزار ہا دھمکیوںاور پابندیوںکے با وجود دونوں قوتیں فلسطینیوں کی حمایت سے باز نہیں آئیں۔ امریکہ پر ہمیشہ اسرائیل کا دباوآ رہا ہے کہ وہ ان دونوںقوتوں کی تباہی کے لیے اقدامات کرے مگر چونکہ امریکہ ایران اور حزب اللہ پر براہ راست حملہ کرنے کے ہمت نہیں کر سکتا اس لیے ان دونوں قوتوں کو کمزور کرنے کے لیے شام جنگ کا مکمل منصوبہ بنایا گیا۔

شام میں سن 2011ءسے جاری اس تنازعے میں اب تک کئی لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ دیگر لاکھوں گھر بار چھوڑ کر ہجرت پر مجبور ہوئے ہیں۔ اس تنازعے کی ابتدا پر بشارالاسد کی حامی فورسز کو متعدد مقامات پر پسپائی اختیار کرنا پڑی تھی اور ملک کے ایک بڑے حصے کا قبضہ ان کے ہاتھوں سے جاتا رہا تھا، تاہم اس دوران غیرملکی طاقتیں بھی اس تنازعے میں کود پڑیں اور حتمی نتیجہ شامی شہریوں کی مشکلات میں اضافے کی صورت میں نکلا۔

یہ بھی پڑھئے:الجزائر : فوجی طیارہ گر کر تباہ، سوار200افراد ہلاک
واضح رہے کہ ایران اس لڑائی میں بشارالاسد کی حکومت کا ساتھ دے رہا ہے۔ اس تنازعے میں ایرانی فورسز بھی شامل ہیں جب کہ تہران حکومت سرمایے، ہتھیاروں اور خفیہ معلومات کے ذریعے بھی شامی فورسز کی مدد کر رہی ہے۔ شام میں ایران کے عسکری مشیر بھی موجود ہیں جب کہ تہران حکومت کی ایما پر لبنانی شیعہ عسکری تنظیم حزب اللہ کے جنگجو بھی شام میں بشارالاسد کے مخالفین کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
روس نے سن 2015ءمیں صدر بشارالاسد کی افواج کی مدد کے لیے شام میں عسکری کارروائیوں کا آغاز کیا۔ ماسکو حکام کے مطابق روسی طیارے شام میں دہشت گرد تنظیموں کو نشانہ بنا رہے ہیں، تاہم روسی بمباری بشارالاسد کے مخالف دیگر گروہوں پر بھی دیکھی گئی ہے۔ روس چاہتا ہے کہ بشارالاسد اقتدار میں رہیں اور مشرق وسطیٰ میں اس کا اثرورسوخ قائم رہے۔
ریاض حکومت شام میں اپوزیشن فورسز بہ شمول چند مسلم عسکریت پسند گروپوں کو ہتھیار اور سرمایہ فراہم کرتی رہی ہے۔ امریکی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد میں شامل سعودی عرب نے اسلامک اسٹیٹ کے خلاف فضائی کارروائیوں میں بھی حصہ لیا۔ سعودی عرب سنی اکثریتی آبادی کا حامل ملک ہے اور شام میں ایران مخالف اور سعودی عرب کی حامی حکومت کا قیام چاہتا ہے، جو بشارالاسد کی جگہ قائم ہو،ترکی اور شام کے درمیان حکومتی سطح پر تعلقات کچھ برس قبل تک نہایت اچھے تھے، تاہم شام میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد ترکی نے شام میں بشارالاسد کے مخالف باغیوں (سوائے کرد جنگجوو¿ں کے) ہتھیار فراہم کیے۔ ترکی نے بشارالاسد مخالف فورسز کو اپنی سرزمین پر بھی جگہ دی، تاکہ وہ شامی فورسز کو نشانہ بنا سکیں۔ ترکی کی کوشش ہے کہ شام میں کرد مخالف اپوزیشن فورسز کو طاقت ور کیا جائے اور دمشق میں ترکی کی حامی حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے۔

پڑھنا نہ بھولئے:امریکہ نے پاکستان پر نئی سفارتی پابندیوں کا فیصلہ کر لیا
امریکا نے سن 2014ءمیں عراق اور شام میں اسلامک اسٹیٹ کے خلاف فضائی حملوں کا آغاز کیا۔ وہ شمالی شام میں کرد فورسز سمیت بشارالاسد کے مخالفین کو ہتھیار اور فضائی مدد فراہم کرتا رہا ہے۔ کرد فورسز کی یہی امداد اس وقت ترکی اور امریکا کے درمیان کشیدگی کی وجہ بھی ہے۔ واشنگٹن کی کوشش ہے کہ شام میں اسلامک اسٹیٹ کو شکست دی جائے، تاہم بشارالاسد کے تیئں امریکا کی پالیسی بہت زیادہ واضح نہیں ہے۔ سابق صدر اوباما بشارالاسد سے اقتدار چھوڑنے کے مطالبات کرتے رہے تاہم ٹرمپ انتظامیہ اس بشارالاسد کے حوالے سے کسی حد تک نرم گوشہ رکھتی ہے،جرمنی شامی علاقوں پر اسلامک اسٹیٹ کے خلاف فضائی نگرانی میں مدد دیتا رہا ہے، جب کہ برلن روس اور ایران سے بھی مطالبات کرتا رہا ہے کہ وہ بشارالاسد کو اقتدار چھوڑنے پر آمادہ کریں۔ برلن حکومت کی خواہش ہے کہ جرمنی میں متعدد دہشت گردانہ حملوں میں ملوث اسلامک اسٹیٹ کو شکست دی جائے، تاہم جرمنی اسد حکومت کا خاتمہ بھی چاہتا ہے۔ برلن حکومت کا موقف ہے کہ جب تک بشارالاسد اقتدار میں رہیں گے، شام میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔
اسی طرح فرانس نے ابتدا میں اپوزیشن گروپوں کو طبی امداد کے ساتھ ساتھ ہتھیار فراہم کیے، تاہم سن 2015ئ سے فرانس امریکی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد میں شامل ہے اور اسلامک اسٹیٹ کے خلاف فضائی کارروائیوں کا حصہ ہے۔ فرانس نے پیرس میں دہشت گردانہ حملوں کے بعد داعش کے خلاف فضائی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔ پیرس حکومت کی خواہش ہے کہ اسلامک اسٹیٹ کو شکست دی جائے۔ فرانس بشارالاسد کو اقتدار چھوڑنے کے مطالبات کرتا آیا ہے، تاہم پیرس حکومت کے بشارالاسد کے حوالے سے اس سخت موقف میں اب کسی حد تک نرمی دیکھی جا رہی ہے۔

اظہر تھراج

صحافی اور کالم نگار ہیں،مختلف اخبارات ،ٹی وی چینلز میں کام کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں