نواز شریف، شہباز سے ناراض، ملاقات کی اندرونی کہانی منظر عام پر آگئی

نواز شریف، شہباز سے ناراض، ملاقات کی اندرونی کہانی منظر عام پر آگئی


اڈیالہ جیل میں 9 اگست کو نوازشریف اور شہبازشریف کے درمیان ہونیوالی غیرمعمولی ملاقات کی تفصیلات سامنے آگئیں۔ پارٹی کی جانب سے احتجاجی سیاست میں سرد مہری دکھانے پرنواز شریف سخت ناراض ہوئے. انھوں نے کہا کہ شہبازصاحب آپکی پالیسی اور مشیر  غلط  ہیں ۔

ذرائع کے مطابق پہلا آدھا گھنٹہ نواز شریف اور شہباز شریف کے درمیان ون ٹو ون ملاقات ہوئی,آدھے گھنٹے بعد دیگر لیگی رہنما بھی میٹنگ کا حصہ بن گئے۔ذرائع کے مطابق نواز شریف پہلی دفعہ گھبراہٹ کا شکار نظر آئے اور غم و غصے کا بھی اظہار کیا۔پارٹی کی جانب سے احتجاجی سیاست میں سرد مہری دکھانے پر نواز شریف سخت ناراض تھے۔نواز شریف نے شہباز شریف سے احتجاج کے روز الیکشن کمیشن کے باہر نہ پہنچنے کی وجہ پوچھی جس پر شہباز شریف نے کہا کہ موسم کی خرابی کی وجہ سے الیکشن کمیشن نہ پہنچ سکے۔

ذرائع کے مطابق نواز شریف کو فضل الرحمان,سراج الحق اور محمود اچکزئی کیطرف سے بھی کچھ پیغامات پہنچائے گئے، نواز شریف نے شہباز شریف سے وضاحت مانگی تو  شہباز شریف نے بتایا کہ ان کا بیانیہ اور پالیسی بہتر تھی,  نواز شریف نے کہا شہباز شریف صاحب آپکی پالیسی بھی غلط ہے اور آپکے مشیر بھی غلط ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ پارٹی کے لوگوں کی متفقہ رائے تھی کہ پارٹی احتجاجی سیاست کرنے میں ناکام رہی ہے,نواز شریف نے پارٹی کے تذبذب کے شکار ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا ۔

ذرائع کے مطابق پچھلے تین ہفتوں سے شہباز شریف،  نواز شریف کو ضمانت ہونے کی نوید سنا رہے تھے,جس پر نواز شریف نے کچھ چیزوں کو نظرانداز کیا تھا,نواز شریف کو یقین دلایا گیا تھا کہ کچھ پس پردہ روابط کیے گئے تھے جسکی وجہ سے وہ جلد جیل سے باہر ہونگے,شہباز شریف کے پس پردہ روابط سے مطلوبہ نتائج نہ آنے پر بھی نواز شریف نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا,ذرائع کے مطابق شہباز شریف اپنے بڑے بھائی کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے۔

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔