اصغر خان کیس کی سماعت 15 اگست کو مقرر، نواز شریف کو نوٹس جاری

اصغر خان کیس کی سماعت 15 اگست کو مقرر، نواز شریف کو نوٹس جاری


اسلام آباد(24نیوز) سیاست دانوں میں کروڑوں روپے کی تقسیم کا معاملہ،  سپریم کورٹ میں اصغر خان کیس کی سماعت بدھ سے ہوگی۔  عدالت نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو نوٹس جاری کر دیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 3 رکنی بینچ سماعت کرےگا۔ عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو نوٹس جاری کر دیا۔ سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی کو بھی نوٹسز جاری کردیا۔ اٹارنی جنرل اور ڈی جی ایف آئی اے کو بھی نوٹس جاری کردیا ۔

اصغر خان کیس کا پس منظر: 

اصغر خان کیس  کیا ہے؟ اصغر خان نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ  فوج نے سابق وزیر اعظم نواز شریف سمیت متعدد سیاست دانوں کو  پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت گرانے کیلئے پیسے دیے تھے۔جس کے بعد یہ  کیس طویل عرصہ تک عدالت میں  زیرسماعت رہا ۔

ایک طویل عرصے کے بعد سپریم کورٹ نے 19 اکتوبر 2012 ءکو اس کیس کا مختصر فیصلہ سنایا تھا اور 8نومبر 2012 ءکوسپریم کورٹ نے اصغر خان کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کیاتھا۔ چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری ،مسٹرجسٹس جواد  ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل بنچ نے اپنے اس فیصلے میں سارا الزام ا س وقت کے آرمی چیف جنرل مرزا اسلم مرزا بیگ اور انٹر سروسز انٹیلی جنس ( آئی ایس آئی) کے سربراہ اسد درانی پر ڈال دیا  تھا اور سپریم کورٹ نے ا ن کے خلاف آئین اور قانون کے مطابق کارروائی کا حکم بھی دیا تھا۔

پڑھنا مت بھولیں: نواز شریف، شہباز سے ناراض، ملاقات کی اندرونی کہانی منظر عام پر آگئی

 چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا تھا کہ 1990 کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی اور سیاست دانوں میں رقوم تقسیم کی گئی تھیں البتہ جو سیاست دان ان رقوم سے مستفید ہوئے ان کے خلاف بھی تحقیقات کی جائیں۔

اصغر خان کیس میں سابق وزیر اعظم محمد خان جونیجوکو 25 لاکھ روپے،سابق نگران وزیراعظم غلام مصطفیٰ جتوئی کو 50لاکھ روپے ،عبدالحفیظ پیرزادہ(مرحوم)کو 30 لاکھ روپے،صبغت اللہ پیرآف پگاڑاشریف کو 20 لاکھ روپے،مظفر حسین شاہ کو 6 لاکھ روپے،سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ جام صادق علی کو 50 لاکھ روپے،غلام علی نظامانی کو 3 لاکھ روپے،سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کو 2 لاکھ روپے دیئے گئے ۔اسی طرح ایک صحافی صلاح الدین مرحوم کو 3لاکھ روپے ادا کرنے کا معاملہ سامنے آیاجبکہ یوسف ہارون پر الزام عائد کیا گیا کہ انہیں بھی5لاکھ روپے ادا کئے گئے ، جنرل ریٹائرڈمرزا اسلم بیگ کی تنظیم فرینڈزکو3 کروڑ روپے،ایم آئی یونٹ پنجاب کو2کروڑ روپے،ایم آئی یونٹ صوبہ سرحد موجودہ خیبر پختونخواکو2 کروڑ روپے،جی ایچ کیو کو 4کروڑ روپے ، ایم آئی کوئٹہ آفس کو ایک کروڑ 50لاکھ روپے بھجوائے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان وزیراعظم کا حلف کب اٹھائیں گے؟

عدالت میں یہ چیز بھی سامنے آئی کہ یونس حبیب نے خود جورقوم تقسیم کیںان میں سے انہوں نے میاں محمدنواز شریف کو مجموعی طور پر 60 لاکھ روپے ، جام صادق علی کو 7کروڑ روپے،ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو 2 کروڑ روپے،جاوید ہاشمی کے علاوہ دیگر ارکان قومی اسمبلی کو 5کروڑ روپے دیئے گئے ۔افتخار محمد چودھری دسمبر 2013 ءمیں اپنے عہدہ سے ریٹائر ہوگئے تھے جبکہ اس کیس کے درخواست گزار اصغر خان رواں سال جنوری میں وفات پا گئے ۔

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔