نریندر مودی نے شکست کے خوف سے پاکستان پر بھونڈا الزام لگادیا

نریندر مودی نے شکست کے خوف سے پاکستان پر بھونڈا الزام لگادیا


 نئی دہلی (24 نیوز) پاکستان بھارتی ریاست گجرات کے انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے، نریندر مودی نے شکست کے خوف سے بھونڈا الزام لگادیا، بھارتی اپوزیشن نے جھوٹے الزام پر مودی سے معافی مانگنے کا مطالبہ کردیا۔

بھارتی ریاست گجرات کے الیکشن میں شکست کا خوف بھارتی وزیراعظم پاکستان کے خلاف پھر ہرزہ سرائی کرنے لگے، انہوں نے الزام لگایا ہے کہ پاکستان ، انڈین ریاست گجرات میں جاری اسمبلی انتخابات کے نتائج متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کوشش میں کانگریس پارٹی اس کے ساتھ ہے۔

نریندر مودی گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ ہیں جہاں ان کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) 22 سال سے اقتدار میں ہے، لیکن اس مرتبہ اسے کانگریس سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ کانگریس کی انتخابی مہم پارٹی کے نائب صدر راہل گاندھی نے سنبھال رکھی ہے۔

انڈین وزیر اعظم نے گذشتہ دو دنوں میں بار بار پاکستان کا ذکر کیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ دہلی میں مامور پاکستانی سفارتکاروں اور پاکستان کے سابق وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری نے کانگریس کے (اب معطل) رہنما منی شنکر ایّر کے گھر پر سابق وزیراعظم من موہن سنگھ اور سابق نائب صدر حامد انصاری سے 'خفیہ' ملاقات کی تھی جس کا مقصد گجرات میں بی جے پی کو ہرانا تھا۔ وہ بظاہر ایک ٹی وی چینل کے ذریعہ نشر کی جانے والی ایک خبر کا ذکر کر رہے تھے۔

پاکستان نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسے انڈیا کی داخلی سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔ ٹوئٹر پر پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 'انتخابات اپنی طاقت کی بنیاد پر جیتے جائیں، فرضی اور بالکل بے بنیاد سازشوں کے سہارے نہیں۔'

کانگریس پارٹی نے نریندر مودی سے کہا ہے کہ اگر یہ الزام سچ ہے کہ پاکستانی سفارتکار داخلی سیاست میں مداخلت کر رہے ہیں تو دہلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر سہیل محمود کو واپس بھیج دیا جانا چاہیے۔

وزیر اعظم کا الزام ہے کہ اس مبینہ ملاقات کے بعد ہی منی شنکر ایّر نے انھیں 'نیچ' قرار دیا تھا۔ مسٹر ایّر کے اس بیان نے ایک بڑے سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر لی ہے اور نریندر مودی نے بار بار اپنی انتخابی تقریروں میں اسے گجرات کے دلت عوام کی توہین سے تعبیر کیا ہے۔ اس بیان کے بعد گانگریس نے مسٹر ایّر کو پارٹی کی رکنیت سے معطل کر دیا تھا۔

گجرات کے انتخابات وزیر اعظم کے لیے انتہائی اہم ہیں کیونکہ اگر بی جے پی وہاں ہار جاتی ہے تو 2019 کے پارلیمانی انتخابات سے پہلے ان کی پوزیشن کافی کمزور ہو جائے گی۔

لیکن راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ وہ اور ان کی پارٹی وزیر اعظم کے عہدے کے خلاف نازیبا زبان استعمال نہیں کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ 'یہ گاندھی کی پارٹی ہے، گاندھی نے دشمن کو پیار سے ہٹایا، گجرات میں ہم آپکو پیار سے ہٹانے جارہے ہیں۔ انتخابات کے نتائج کا اعلان 18 دسمبر کو کیا جائے گا۔