معروف وکیل، قانون دان عاصمہ جہانگیردنیا فانی سے کوچ کر گئیں


لاہور (24نیوز) معروف اور سینئر وکیل و قانون دان عاصمہ جہانگیر دل کی تکلیف پڑنے سے انتقال کر گئیں.

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ بار کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر انتقال کر گئی ۔ آج صبح طبیعت خراب  ہونے پر انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا تو معلوم ہوا کہ انہیں شدید نوعیت کا ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔

ڈاکٹرز نے انہیں بچانے کی بھرپور کوشش کی مگر وہ جانبر نہ ہو سکیں اور خالق حقیقی سے جا ملیں۔ عاصمہ جہانگیر ناصرف سپریم کورٹ بار کی سابق صدر تھیں بلکہ معروف قانون ہونے کے علاوہ انسانی حقوق کے حوالے سے بھی ان کا بہت بڑا نام تھا۔

  عاصمہ جہانگیر ستائیس جنوری انیس سو باون کو لاہور میں پیدا ہوئیں۔ابتدائی تعلیم جیزس اینڈ میری کانونٹ سے حاصل کی، انیس سو اٹہتر میں کنیئرڈ کالج سے گریجویشن اور ایل ایل بی مکمل کیا۔ عاصمہ جہانگیر نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1980 میں جمہوریت کی بحالی کی تحریک کا حصہ بنیں،اور ڈکٹیٹر ضیا الحق کے خلاف تحریک کیلئے کام کیا، اس دوران انہیں قید و بند کی صعوبتوں کا بھی سامنا رہا۔

انیس سو چھیاسی کو جینیوا میں بچوں کے تحفظ کی بین الاقوامی ادارے ڈیفنس فار چلڈرن انٹرنیشنل کی سربراہ کے طور پر فرائض انجام دئیے۔انیس سو قومی ہیومن رائٹس کمیشن کے سیکریٹری جنرل رہیں، 1993 میں اسی ادارے کے سربراہ مقرر ہوئیں۔اگست 2004 سے جولائی 2010 تک اقوام متحدہ میں بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے بھی خدمات انجام دیں۔انہیں ان کی خدمات کے اعتراف میں کئی ایوارڈز اور اعزازات سے بھی نوازا گیا۔
ان کے والد ملک غلام جیلانی سول سرونٹ تھے، جنہیں فوجی ڈکٹیٹر نے گرفتار کرلیا، عاصمہ جہانگیر نے اپنے والد کا کیس لڑا اور اپنے والد کو رہا کرایا، عاصمہ جہانگیر کی جمہوریت اور ملک میں انسانی حقوق، خواتین اور بچوں کے حقوق کے حوالے گراں قدر خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

وزیر اعظم پاکستان ، چیف جسٹس پاکستان ، بلاول بھٹو،عمران خان، مریم نواز سمیت دیگر اہم رہنماؤں نےعاصمہ جہانگیر کے انتقال پر اظہار افسوس کیا۔