میرا خیال ہے اگلے وزیر اعظم شہباز شریف ہوں گے: چیف جسٹس پاکستان


لاہور (24نیوز)   چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے ہیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف صف اول میں لڑنے والے کھلاڑی ہیں، میرا خیال ہے کہ اگلے وزیر اعظم شہباز شریف ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس منظور احمد ملک اور جسٹس اعجازالاحسن نے صاف پانی کیس کی سماعت کی،  وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف ، صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ، صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر، ذکیہ شاہنواز، رانا مشہود اور چیف سیکرٹری پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ زاہد سعید سمیت دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالتی سماعت شروع ہونے پر چیف جسٹس پاکستان نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو روسٹرم پر بلاتے ہوئے کہا کہ اس میں سیاست نہیں، آپ کے آنے کا شکریہ، عدالتی معاون عائشہ حامد نے گندہ پانی راوی میں ڈالنے کی رپورٹ پیش کی۔

  چیف جسٹس پاکستان نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے استفسار کیا کہ دریاؤں میں گند جا رہا ہے اور حکومت نے ٹریٹمنٹ پلانٹ نہیں لگائے۔ جو ہو گیا وہ ہو گیا آگے کیا کرنا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہاسپیٹل ویسٹ پر بڑا کام کیا۔ ہمارا سسٹم بہت اچھا ہے۔ حکومت پنجاب نے جامع ویسٹ مینجمنٹ پلان بنایا ہے، پلان پر 125 ضلعی اور تحصیل کی سطح پر عملدرآمد ہوچکا ہے، اس میں صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر اور سیکرٹری علی جان کا کردار اہم ہے، منصوبے کیلئے چیف سیکرٹری زاہد سعید نے بھی خصوصی محنت کی ۔

چیف جسٹس پاکستان نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اسے آؤٹ سورس کرنا صحیح نہیں لگتا۔ دو دن ان کیسوں کی سماعت کی لیکن ماحولیات اور صحت کے معاملے پر ہم مطمئن نہیں ہیں۔ وزیراعلی پنجاب نے کہا کہ ہم نے کئی پراجیکٹس پر لوگوں کے پیسے بچائے۔ ہمارے لگائے گئے پاور پراجیکٹس کا موازنہ ملک کے دوسرے پراجیکٹس سے کر لیں۔ جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب آپ کے قدامات سے مطمئن نہیں اس لیے بلایا، ویسٹ دس سال سے پانی میں جا رہا ہے۔ جس پر وزیراعلیٰ پنجاب نے عدالت سے جواب کے لئے تین ہفتے مہلت دینے کی استدعا کی۔

چیف جسٹس پاکستان نے وزیر اعلیٰٰ پنجاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتالوں کی ایمرجنسی ٹھیک نہیں، میں نے ایک ہسپتال کا دورہ کیا تو آپکی پارٹی کی جانب سے اعتراضات اٹھائے گئے,  مجھے ان کی کوئی پرواہ نہیں۔ آپ ہسپتالوں کی ایمرجنسی کو بہتر کرنے کے لئے کام کریں، ہم آپ کو سپورٹ دیں گے۔

جواب میں شہباز شریف نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں کی حالت بہتر ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پھر ابھی چل کر دیکھ لیتے ہیں۔ جس پر شہباز شریف نے کہا کہ انہیں کچھ وقت  دیا جائے۔

چیف جسٹس پاکستان نے حکومت کو جواب دینے کے لئے مہلت کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔