حقیقی خوشیاں اور گلوبل ویلج کی خاک ۔۔۔

مناظرعلی

حقیقی خوشیاں اور گلوبل ویلج کی خاک ۔۔۔


اچھا بھلاصحت مندتھا،کھیل کودمیں فارغ وقت گزارنا،لوگوں سے ملناملانا،اہل خانہ،رشتے داروں،بہن بھائیوں کوملنا،اٹھنابیٹھنا،خوشی غمی میں شریک ہونا،دوسروں کے کام آنا،مسجد جانا،پارکوں،کھیتوں کھلیانوں میں جاکرہریالی دیکھنا،رات کوچھت پرسونا،نیلے آسماں پرچھائی رات کی تاریکی میں ستاروں کاجگمگانہ اورچاند کی من بھاتی روشنی دیکھنا،رات کے سناٹے میں کہیں دورسے آنے والی جانوروں کی آوازیں سننا،ہواکے دوش پراڑتے پرندوں کو دیکھنا،درختوں کے پتوں کی سرسراہٹ،پھولوں پربیٹھتی اٹھتی تتلیوں کے پیچھے بھاگنا اورشام ہوتے ہی جگنوؤں کو ہاتھوں میں قیدکرنااورپھرچھوڑ دینا،قدرت کتنی حسیں لگتی،یہ سب کچھ کتناپیارا تھااورپھرسائنس ترقی کرتی گئی،ہم سائنس کی جدیدایجادات میں کھوگئے اورقدرتی نظارے پتہ نہیں کہاں کھوگئے۔

پی ٹی سی ایل کے بعدموبائل فون اورپھراس تارکے بغیرچلنے والے موبائل میں نت نئی جدت،تیزترین انٹرنیٹ نے دنیاہمارے ہاتھ میں رکھ دی،ہم بیٹھے چاہے کسی باغ میں ہوں،کسی باغیچے میں ہوں یاپھردریاکنارے ،ساحل سمندریاپھرملکہ کوہسار کی چوٹیوں یاوادیوں میں مگرہمارا دماغ یہاں نہیں بلکہ کسی اورہی دیس میں فیس بک پر،واٹس ایپ اورٹویٹرپرآن لائن رہتارہتاہے،ہم پاس بکھری خوشیوں کومحسوس نہیں کرتے مگرہزاروں میل دوربیٹھے اپنے فیس بک فرینڈکے "فیلنگ سیڈ"پراس کی افسردگی کی وجہ پوچھ رہے ہوتے ہیں۔ہم اپنے بچوں کووقت نہیں دیتے مگرامریکہ میں بیٹھی اپنی فیس بک فرینڈکی گڑیاکی مسکراہٹ پراسے خوش کرنے کیلئے کمنٹ کررہے ہوتے ہیں۔ہم خدا کاواسطے دیتے بھوکے فقیر کو کھانا کھلانا پسند نہیں کرتے مگرپیرس میں "چیک ان"کرنے والی اپنی دوست کے پیزے کو دیکھ کرمنہ میں پانی لارہے ہوتے ہیں۔ اپنے عزیزواقارب،اپنے محلے داروں کوچھوڑ کرگلوبل ویلج میں خوشیاں تلاش کررہے ہوتے ہیں حالانکہ ہمارے عزیزواقارب اصلی ہیں اورفیس بک فرینڈزکاکسی کوکچھ یقین نہیں کہ"مس بشریٰ" کے آئی ڈی کے پیچھے "چاچابشیر"بیٹھاہے۔۔نجانے ہم کہاں جارہے ہیں؟اس کا انجام کیاہوگا؟ اس سےبے خبرہیں مگرہرفیس بک فرینڈکی ایک ایک حرکت سے باخبرہیں۔

بلاشبہ اس دور میں موبائل ایک ضرورت بن چکاہے مگریہ ہماری زندگی میں کہاں تک ضرورت ہے اسے جاننے کی اشد ضرورت ہے۔ضروری کال کرنا،کال سننا،ضروری میسج کرنا،میسج کاجواب دیناتواب جدید اخلاقیات کاحصہ سمجھ لیں مگرکسی کی ہرپوسٹ پرلائیک،کمنٹس اورفضول کی بحث میں الجھناکسی صورت ضروری نہیں۔ہرصبح ایک لمبی لسٹ کوہرمسینجرپرگڈ مارننگ کہناضروری بن گیاہے مگرصبح کاآغازاپنے والدین کوسلام کرکے کرناشایدکسی کیلئے اہم نہیں رہا،حقوق اللہ کیساتھ ساتھ حقوق العباد کتنے ضروری ہیں آج کل کی فیس بکی نسل کوشاید علم نہ ہومگریہاں ذمہ داری ان گھرکے بڑوں کی زیادہ ہے جواس وائرس سے کسی حدتک محفوظ ہیں۔

ہمیں بلآخرسکون کی تلاش کیلئے اصل کی طرف ہی لوٹناہے کیوں کہ سکون وہاں نہیں جہاں ہم اسے تلاش کررہے ہیں،سکون وہیں ملے گاجہاں کبھی سکون سے رہتے تھے۔موبائل فون،انٹرنیٹ اوران سے پیداہونے والی تمام جدیدسہولتیں بوقت ضرورت استعمال کریں مگرکچھ وقت اپنے اہل خانہ اورکچھ وقت قدرت کودیں،صبح کی سیرکریں مگرآپ کی آنکھوں کا فوکس سبزہ ہو،آپ پھولوں کودیکھیں،آپ اپنے دوستوں سے گپ شپ کریں،والدین،بچوں اوربہن بھائیوں کوملیں، ان کے مسائل پوچھیں ان سے خوشیاں شیئرکریں توحقیقت میں خوشی زندگی کے ہرموڑ پرنظرآئے گی۔ان حقیقی خوشیوں کوپھرچوبیس گھنٹے میں ایک باربے شک اپنی فیس بک پرشیئرکریں تاکہ فیس بک کی دنیاکوبھی اس کااحساس ہواوروہ سب اس آگاہی میں لگ جائیں۔حقیقی دنیامیں خودکودستیاب رکھیں نہ کہ ہروقت گلوبل ویلج کی گلیوں میں دربدرکی خاک چھانتے پھریں۔

بلاگر کاتعلق پنجاب کے ضلع حافظ آبادسے ہے اوروہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے پرنٹ والیکٹرانک میڈیاسےمنسلک ہیں، آج کل سٹی نیوزنیٹ ورک میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور24نیوزکیلئے مستقل بلاگ لکھتے ہیں، انہوں نے"کلیدصحافت"کے نام سے صحافت کے مبتدی طلباء کیلئے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔