زینب قوم کی بیٹی تھی ،ہاتھ باندھ کرکہتے ہیں تشدد نہ کریں:چیف جسٹس ثاقب نثار


اسلام آباد(24نیوز) سپریم کورٹ میں میڈیکل کالج کے الحاق سے متعلق کیس میں سانحہ قصورکا ذکر، چیف جسٹس ثاقب نثار کہتے ہیں زینب قوم کی بیٹی تھی واقعہ پر سر شرم سے جھک گیا ہے، چیف جسٹس کی وکلاء سے پرامن رہنے کی اپیل ، تشدد روکنا وکلاء کی ذمہ داری ہے ہاتھ باندھ کرکہتے ہیں تشدد نہ کیا کریں۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب ںثار کی سربراہی میں3 رکنی بنچ نے الراضی میڈیکل کالج کے الحاق سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے وکلاء کی ہڑتال کی وجہ پوچھی تو اعتزازاحسن نے بتایاکہ سانحہ قصور کیخلاف ہڑتال کی جارہی ہے جس پر چیف جسٹس ثاقب نثارنے کہاکہ زینب قوم کی بیٹی تھی واقعہ پرپوری قوم کا سرشرم سے جھک گیا ان سے زیادہ انکی اہلیہ پریشان ہے دکھ اوراورسوگ اپنی جگہ لیکن ہڑتال کی گنجائش نہیں بنتی۔

چیف جسٹس نے ججز بحالی کیلئے وکلاء تحریک کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ اعتزازاحسن نہ ہوتے تووکلاء تحریک نہ چلتی وہی کرداراب عدلیہ میں اصلاحات اورصحت کیلئے ادا کرنا ہوگا۔جبکہ اعتزازاحسن نے عدلیہ تحریک کے منفی پہلو کی جانب اشارہ کرتےہوئے کہاکہ پرتشدد وکلاء اورمغرورججزعدلی​ہ تحریک کا نتیجہ ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ججزکوکسی صورت مغرورنہیں ہونا چاہیے۔ دعا کریں غرورہمارے لیے موت کا باعث بنے تشدد روکنا وکلاء کی ذمہ داری ہے ہاتھ باندھ کرکہتے ہیں تشدد نہ کیا کریں۔سپریم کورٹ نے خیبر میڈیکل یونیورسٹی کو داخلہ ٹیسٹ کے نتائج جاری کرنے کی اجازت دیتےہوئے سماعت 16 جنوری تک ملتوی کردی۔