پنجاب لڑکے لڑکیوں کے لیے مقتل، زیادتی زدہ نعشیں ملنا معمول

پنجاب لڑکے لڑکیوں کے لیے مقتل، زیادتی زدہ نعشیں ملنا معمول


سرگودھا، پتوکی، کھڈیاں، فاروق آباد(24 نیوز) صوبہ پنجاب لڑکے لڑکیوں کے لیے مقتل، زیادتی زدہ نعشیں ملنا معمول بنا گیا۔

تفصیلات کے مطابق سرگودھا میں 18 سالہ ساجدہ بی بی کی لاش کھیتوں سے ملی۔ ساجدہ کو مبینہ زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا۔ ڈی پی او سرگودھا موقع پر پہنچ گئے۔ 2مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ پوسٹ مارٹم کے بعد ساجدہ کی لاش لواحقین کے حوالے کر دی گئی۔

متعلقہ خبر:زیادتی کا شکار 12 بچیوں میں سے زندہ بچ جانے والی کائنات بتول کی کہانی

پتوکی کے نواحی علاقہ ڈھولن چک نمبر 27 سے بچے کی لاش ملی۔ 11 سالہ اشراق چھٹی جماعت کا طالبعلم تھا جو 4 روز قبل شام 6 بجے گھر سے نکلا اور واپس نہیں آیا۔ اشراق کو مبینہ زیادتی کے بعد قتل کر کے لاش کھیتوں میں پھینک دی گئی۔

اہم خبر:مظاہرین پر گولیاں برسانے کی روایت ن لیگ نے ڈالی:مخدوم احمد محمود

فاروق آباد میں 8 سالہ ملیحہ کو زیادتی کے بعد مار ڈالا گیا۔ ملزم شیراز نے ننھی ملیحہ کو اغوا کیا اور 4 روز تک ہوس کا نشانہ بنایا۔ اس کے بعد لاش کو بوری میں بند کر کے ایک پارک میں پھینک دیا۔ ملزم کی نشاندہی پر پولیس چھاپہ مارنے گئی تو انھیں فائرنگ کا سامنا ہوا۔ پولیس کی جوابی فائرنگ سے ملزم شیراز موقع پر ہلاک ہو گیا۔

یہ بھی پڑھئے: 12جنوری کو احتجاج کا اعلان، سانحہ ماڈل ٹاؤن ،قصور واقعہ سے جڑگیا:طاہر القادری

دریں اثناء زینب کے لیے ہونے والے مظاہرے میں کھڈیاں خاص کا رہائشی بھی پہنچا۔ بے بس شخص کا کہنا تھا کہ اس کی بیٹی کو با اثر افراد نے ایک ماہ پہلے اغوا کیا۔ با اثر افراد دھمکیاں دے رہے ہیں۔ پولیس تعاون نہیں کررہی۔