پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا


  کراچی ( 24نیوز ) برآمدات میں اضافے کے باوجود 11 ماہ کا تجارتی خسارہ 34 ارب ڈالر کے قریب پہنچ گیا۔ 11 ماہ کے دوران اشیا کی بیرونی تجارت میں پاکستان کو 33 ارب 88 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے رکارڈ خسارے کا سامنا رہا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ کے دوران اشیا کی بیرونی تجارت میں پاکستان کو 33 ارب 88 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے رکارڈ خسارے کا سامنا رہا۔ جو گزشتہ سال سے 13.4 فیصد زیادہ ہے۔ درآمدات پر ریگولیٹری ڈیوٹی نے خسارہ کم تو نہیں کیا لیکن خسارہ بڑھنے کی رفتار ضرور کم کر دی۔ مالی سال کے ابتدائی مہینوں میں تجارتی خسارہ پہلے سے 31 فیصد زیادہ ہو گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:نئی گاڑی خریدنے کے خواہشمند افراد کیلئے اہم خبر آگئی

  جولائی سے مئی کے اختتام تک برآمدات کا حجم 21 ارب 34 کروڑ 60 لاکھ ڈالر رہا، جو گزشتہ مالی سال اس عرصے سے 15.3 فیصد زیادہ ہے، جبکہ اس دوران درآمدی بل 55 ارب 23 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا جو پہلے سے 14.12 فیصد زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق مئی میں تجارتی خسارے کا حجم 3 ارب 67 کروڑ ڈالر رہا۔ مئی کی برآمدات گزشتہ سال مئی سے 32.4 فیصد زیادہ جبکہ درآمدات 14.7 فیصد زیادہ رہیں۔

دوسری جانب نگران حکومت کے دور میں بھی ڈالر کی پرواز جاری رہی۔ انٹر بینک مارکیٹ میں ٹریڈنگ کے دوران ڈالر ساڑھے پانچ روپے کے اضافے سے 121 روپے سے بھی مہنگا ہو گیا۔ہفتے کے پہلے روز انٹربینک مارکیٹ میں ٹریڈنگ کے دوران ڈالر کی قیمت 115 روپے 61 پیسے سے بڑھ کر 121 روپے سے بھی تجاوز کر گئی، اسٹیٹ بینک کی طرف سے حسب معمول روپے کی قدر میں باضابطہ کمی کا اعلان نہیں کیا گیا، اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر 121 روپے تک فروخت ہوا۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق جب بھی آئی ایم ایف سے کسی قسم کے مزاکرات کی بات ہوتی ہے۔ حکومت روپے کو سستا کر دیتی ہے۔ اب بھی آئی ایم ایف کی ٹیم مزاکرات کے لیے اس ماہ کے آخر میں پاکستان آ رہی ہے۔ جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافے کی وجہ سے بھی زرمبادلہ کے ذخائر دباؤ کا شکار ہیں۔

پڑھنا نہ بھولیں:ن لیگی حکومت نے ملک کو قرضوں میں ڈبودیا 

 مارکیٹ ذرائع کے مطابق گزشتہ ایک سال سے ہر سہ ماہی کے دوران ڈالر 4 سے 5 فیصد تک مہنگا کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل مارچ اور دسمبر میں روپے کی قدر میں کمی کی جا چکی ہے۔

شازیہ بشیر

   Shazia Bashir   Edito