نواز شریف پر جوتا پھینک دیا، سیاسی و مذہبی رہنماؤں کا شدید الفاظ میں اظہار مذمت


لاہور ( 24 نیوز )سابق وزیراعظم نوازشریف پر تقریب کے دوران طالب علم نے  جوتا پھینک دیا، جس  پر ملک بھر  کی مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں نے شدید الفاظ میں مذمت کی۔ طالب علم   کو پکڑکر سیکیورٹی اداروں کے حوالے کر دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق سابق نواز شریف لاہور میں جامعۂ نعیمیہ کے بانی مفتی حسین نعیمی کی برسی کے موقعے پر خطاب کیلئے سٹیج پر آئے تو اسی مدرسے کے سابق طالبعلم نے ان کی طرف جوتا پھینکا جو انکےسینے پر جا لگا، جس کے بعد تقریب میں بدمزگی پیدا ہوگئی اور موقع پر موجود جامعہ نعیمیہ کے طالب علموں اور نون لیگی کارکنوں نے منور نامی طالب علم کو  پکڑ کر سیکیورٹی اداروں کے حوالے کر دیا۔

قبل از وقت جوتا پھینکنے کے حوالے سے سب سے مشہور واقعہ 2008ء میں پیش آیا، جب ایک مصری صحافی منتظر الزیدی نے بغداد میں ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں اس وقت کے امریکی صدر جارج بش پر دونوں جوتے پھینکے تھے، تاہم صدر بش پھرتی سے جھکائی دے کر دونوں جوتوں کے وار سے بچ گئے تھے۔ایک روز پہلے سیالکوٹ میں وفاقی وزیر  خواجہ آصف کے چہرے پر سیاہی پھینک دی گئی،وفاقی ویز احسن اقبال پر بھی 24فروری 2018 ءکو تقریب کےدوران بلال ہارس نامی نوجوان نے جوتا پھینکا،یکم مارچ 2016ءکو کراچی ایئر پورٹ پرسابق وزیر  پرویز رشید کو بھی جوتے کا نشانہ بنایاگیا۔

مزید جاننے کیلئے لنک پر کلک کریں:

مسلم لیگ ن کے رہنماء خواجہ سعد رفیق  نے مذمت کرتے ہوئے کہا  کہ مسلم لیگ ن کی بڑھتی مقبولیت سے خائف عناصر کا ایک اور حملہ، احسن اقبال خواجہ آصف اور میاں نواز شریف پر تضحیک آمیز حملے ایک ہی سلسلے کی کڑی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کوچلنے دیا جائے اوردشمن کا کام آسان نہ کیا جائے۔

مزید جاننے کیلئے لنک پر کلک کریں:

 ملک بھر سے  سیاسی اور مذہبی رہنماؤں نے واقعہ کی شدید مذمت کی ،پاکستان تحریک انصاف  کے چیرمین عمران خان نے نواز شریف پر جوتا پھینکنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی سیاسی رہنما پر جوتا پھینکنا کوئی طریقہ کار نہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ سیاہی پھینکنایا جوتا پھینکنا غیر اخلاقی حرکت ہے۔

مزید پڑھنے کیلئے لنک پر کلک کریں:عمران خان کی نواز شریف پر جوتا پھینکنے کی مذمت

  پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف پرجوتاپھینک کرگری ہوئی حرکت کی گئی، جوتا پھینکنے کی روایت سے سیاسی قیادت کیلئے خطرات پیداہوں گے،انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات نے ناقص سکیورٹی انتظامات کوبے نقاب کردیا۔ایم کیو ایم کے فاروق ستار نے کہا کہ اس طرح کاعمل غیراخلاقی اورافسوسناک ہے۔

مزید پڑھنے کیلئے  لنک پر کلک کریں: بلاول بھٹو نے بھی نواز شریف پر جوتا پھینکنے کی مذمت کردی

پشتونخوا  کی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے نواز شریف پر جوتا پھینکے جانے کے واقعہ کی مذمت کی اور کہا کہ جوتا پھینکوایا گیا یا کسی نے خود پھینکا قابل مذمت ہے، سیاسی جماعتوں کو صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے، ایسی صورتحال میں کوئی جماعت یا گروہ سیاسی مجالس نہیں کر پائیں گی۔ مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ جوتا پھینکے جانے کا واقعہ انتہائی قابل مذمت ہے، جوتا پھینکے جانے کی صورتحال کا سب کوسامنا کرنا پڑے گا، انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے رویے بہتر کرنے کی ضرورت ہے، اللہ کرے کہ یہ واقعہ آخری ہو۔

 جامعہ نعیمیہ کے سربراہ مولانا راغب نعیمی کا کہناتھا کہ نواز شریف پر جوتا پھینکے جانے کی شدید مذمت کرتاہوں، نواز شریف کے بزرگوں کا جامعہ نعیمیہ سے بڑا گہرا تعلق رہا ہے،ان کا کہناتھا کہ جوتا پھینکنے والاجامعہ نعیمیہ کاسابق طالب علم ہے، ہم مطالبہ کریں گے کہ اس واقعہ کی تحقیقات کرائی جائے۔

:مزید جاننے کیلئے لنک پر کلک کریں