تھر کول پاور پراجیکٹ،بدعنوانی کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل


اسلام آباد( 24نیوز ) سپریم کورٹ نے زیر زمین گیس سے بجلی کی پیداوار کے منصوبے میں بدعنوانی کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی۔ عدالت نے نیب سے منصوبے میں بدعنوانی کی تحقیقات سے متعلق جواب طلب کرلیا، عدالت کا ریمارکس میں کہنا تھا کہ نیب بتائے اس منصوبے میں کی گئی بد عنوانی کیسے سامنے لائی جاسکتی ہے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے تھرکول پاور پراجیکٹ منصوبے پر از خود نوٹس کی سماعت کی، اس موقع پر معروف سائنسدان اور تھر میں زیر زمین گیس نکالنے کے منصوبے کے چیئرمین ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے 8.8 ارب روپے سے 100 میگاواٹ کا پلانٹ لگایا اور یہ منصوبہ سندھ حکومت کا تھا، اکتوبر 2012 میں 900 ملین فنڈ ملا اور 15-2014 میں 8 میگاواٹ کے منصوبے مکمل ہوئے۔

ڈاکٹر ثمر مبارک نے کہا کہ 13 ارب 80 کروڑ روپے منصوبے پر خرچ ہوئے، یہ منصوبہ ناکام نہیں ہوا اس کی فنڈنگ روک دی گئی، جس پر چیف جسٹس نے ڈاکٹر ثمر کو کہا آپ اپنے منصوبے کی تعریف نہ کریں، ہمیں دیکھنا ہے کہ آپ نے کیا کیا، آپ کا پراجیکٹ فیل ہوگیا اور اس کا ڈیزائن غلط ہے۔

عدالت نے استفسار کیا زیر زمین گیس پراجیکٹ پر 3.4 ارب روپے خرچ کے باوجود توانائی کی پیداوار صرف 8 میگاواٹ کیوں ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ایک پراجیکٹ 1320 میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا جس پر 1.9 ارب ڈالر کی لاگت آئے گی، جبکہ 330 میگاواٹ کے تین منصوبے زیر تکمیل ہیں اور ان پر 1.77 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ درآمدی کوئلے سے چلنے والا ایک پلانٹ پورٹ قاسم، دوسرا ساہیوال میں لگا، دونوں 1320 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ عدالت نے زیر زمین گیس سے بجلی کی پیداوار کے منصوبے میں بدعنوانی پر کمیٹی تشکیل دیدی۔ اور ریمارکس دیئے کہ توانائی کے ماہرین اور سائنسدانوں پر مشتمل کمیٹی بنا رہے ہیں، جبکہ عدالت کی جانب سے سلمان اکرم راجہ اور شہزاد الہیٰ کو عدالتی معاون مقرر کردیا گیا۔