بلوچستان کی حکومت شدید مالی بحران کا شکار

بلوچستان کی حکومت شدید مالی بحران کا شکار


24نیوز: بلوچستان میں ترقی و خوشحالی کے دعوے اپنی جگہ مگر آنے والے چند سالوں میں صوبہ شدید مالی بحران کا شکار ہونے جارہا ہے۔

 اس بحران سے نکلنے کیلئے بلوچستان اب عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لینے کیلئے بھی تیار ہے۔ تنخواہوں کے باعث چند سالوں میں ترقیاتی بجٹ صفر ہوجائے گا۔  2008 تک کی حکومتوں کے دور اقتدار میں صوبہ17 ارب کے اوور ڈرافٹ تلے دبا رہا، 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے اوور ڈرافٹ اپنے ذمہ لیتے ہوئے آغاز حقوق بلوچستان پیکج کا اعلان کیا اور این ایف سی ایوارڈ  کے ذریعے صوبے کو  120ارب روپے کی گیس رائلٹی کی مد میں بقایا جات ملے جس کے بعد صوبائی حکومتوں کی مالی مشکلات میں کمی تو آئی مگر یہ استحکام زیادہ دیر تک برقرار نہ رہ سکا اور اب غیر ترقیاتی بجٹ میں تیزی سے اضافے کے باعث صوبے کا ترقیاتی بجٹ خطرناک صورتحال اختیار کر چکا ہے۔

صوبائی وزیرخزانہ اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ حکومت بلوچستان کا موجودہ پی ایس ڈی پی 88 ارب ہے مگر حکومت کے پاس اس ضمن میں 88 کروڑ روپے موجود ہیں۔سابقہ پانچ سالہ دور میں وفاقی پی ایس ڈی پی کی اسکیموں پر ادائیگی 100 فیصد ہوئی مگر ان منصوبوں پرکام 80 فیصد بھی نہیں ہوا۔ اب یہ منصوبے تقریباً450 ارب روپے کی خطیر رقم کے متقاضی ہیں۔ جام کمال حکومت کو یہ خطرات بھی لاحق ہیں کہ ان منصوبوں کی تکمیل کیلئے فوری رقم کا بندوبست نہ کیا گیا تو کھربوں روپے ضائع ہوجائیں گے۔

دوسری جانب پچھلے ادوار میں ہزاروں افراد کو سرکاری ملازمتیں فراہم کی گئیں جن کی تنخواہیں حکومت پر اضافی بوجھ ہیں ماہرین کہتے ہیں اتنے بڑے پیمانے پر سرکاری ملازمتوں کی تنخواہوں کے باعث آنیوالے چند سال میں بلوچستان کا ترقیاتی بجٹ صفر ہوجائے گا۔

شازیہ بشیر

   Shazia Bashir   Edito