شہبازشریف کی گرفتاری کےخلاف احتجاج

شہبازشریف کی گرفتاری کےخلاف احتجاج


اسلام آباد : مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی گرفتاری کے خلاف (ن) لیگ کی جانب سے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاجی اجلاس منعقد کیا جا رہا ہے۔

سابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ممبران قومی اسمبلی اور سینیٹ نے بھی شرکت کی۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللہ نے شہباز شریف کی گرفتاری کے کیس کی تفصیلات پیش کیں۔انہوں نے بتایا کہ نیب نے شہباز شریف پر بےبنیاد اور من گھڑت کیس بنایا، آشیانہ اسکیم میں لطیف سنز کو کنٹریکٹ دیا گیا، شہباز شریف نے اس کنٹریکٹ پر انکوائری کمیٹی بنائی.

کمیٹی نے بتایا کہ اس کنٹریکٹ میں نقائص ہیں جس پر شہباز شریف نے ٹھیکے کو منسوخ کرکے دوبارہ ٹینڈر کرنےکی ہدایت دی۔رانا ثنا اللہ کا احتجاجی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ شہباز شریف پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں ہے جب کہ پنجاب میں سب سے بڑے ڈاکو پرویز الہیٰ پر 22 ارب روپے کا الزام ہے لیکن انہیں گرفتار نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان خود کہتے ہیں کہ پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو پرویز الٰہی ہے، شہباز شریف پر کرپشن کا تو الزام بھی نہیں، پھر بھی انہیں گرفتار کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی انتقام کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو احتجاج پارلیمنٹ سے بھی آگے جائے گا۔احتجاجی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما مشاہد اللہ خان نے کہاکہ ایسی جماعت کو لا کر بٹھایا گیا ہے جو اپوزیشن میں بیٹھنے جارہی تھی، اگر یہ الیکشن صاف شفاف تھے تو پولنگ اسٹیشن پر لگے سی سی ٹی وی کی ویڈیو نکالیں، الیکشن میں دھاندلی نہیں ہوئی بلکہ نتائج تبدیل کیے گئے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ آئین کی بحالی اور قانون کی بالادستی کے لیے نواز شریف اور اس کی بیٹی نے قربانی دی اور ضمنی الیکشن کے باعث شہباز شریف کو گرفتار کیا، شہباز شریف کا قصور یہ ہے کہ وہ وطن پرست ہیں۔سینیٹر مشاہد اللہ نے مزید کہا کہ اگر آپ ہمارے ہی نقش قدم پر آئی ایم ایف پر گئے تو عوام کو بیوقوف کیوں بنایا؟ جب کہ درخت لگانے کا مقصد مال کمانے کا طریقہ ہے۔

سینیٹر آصف کرمانی کا کہنا تھاکہ یہ ایک کنٹرولڈ جمہوریت اور کنٹرولڈ حکومت ہے،  10 سال قوم کی خدمت کرنے والے کو سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا، ضمنی انتخابات میں مخالفین کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں اس لیے شہباز شریف کو گرفتار کیا گیا۔

شازیہ بشیر

   Shazia Bashir   Edito