نئی پارلیمنٹ موروثی سیاست کی آماجگاہ بن گئی


اسلام آباد( 24نیوز ) نئی پارلیمنٹ موروثی سیاست کی آماجگاہ بن گئی،انتخابات 2018 میںکئی سیاستدانوں کی بہنوں، بیٹیوں، بیویوں اور دیگر رشتہ داروں کی قسمت جاگ اٹھی اور وہ خواتین کی مخصوص نشست پر رکن قومی اسمبلی بن گئیں،نئی قومی اسمبلی میں جہاں حکومت اور اپوزیشن میںنوک ،جھونک ہوگی وہیں ساس اور بہو کی لڑائی بھی دیکھنے کو ملے گی۔
نئی قومی اسمبلی میں پرانے چہرے منتخب ہوکر آئے ہیں تو ان میں خوبصورت اور نئے چہرے بھی شامل ہیں جو پارلیمنٹ کی رونق کو بڑھائیں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز الیکشن کمیشن کی جانب سے اقلیتی اور خواتین کی نشستوں کا اعلان کیا گیا، جس کے بعد قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے ارکان کی تعداد 158 ہوگئی جبکہ مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی تعداد 82 تک پہنچ گئی،دوسری جانب قومی اسمبلی میں مخصوص نشستیں ملنے کے بعد پیپلز پارٹی کے اراکین کی تعداد 52 ہوگئی جبکہ متحدہ مجلس عمل کی نشستوں کی تعداد 15 ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  الیکشن کمیشن نے صوبائی اسمبلیوں کی مخصوص نشستوں کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا

پاکستان تحریک انصاف نے خواتین کی مخصوص نشستوں پر شیریں مزاری، منزہ حسن، عندلیب عباس اور سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی اہلیہ کی بہن نفیسہ عنایت اللہ خان خٹک اور بھتیجی ساجدہ بیگم سمیت 16 خواتین اراکین کو نامزد کیا۔
مسلم لیگ (ن) نے خواجہ آصف کی اہلیہ مسرت آصف اور بھتیجی شیزا فاطمہ، سابق وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب، ان کی والدہ طاہرہ اورنگزیب، سابق وزیرخزانہ حفیظ پاشا کی اہلیہ اور سابق وزیر خزانہ پنجاب عائشہ غوث پاشا، سابق وزیراعظم نواز شریف کے معاون خصوصی طارق فاطمی کی اہلیہ زہرہ ودود فاطمی، سابق وزیرمملکت چوہدری جعفر اقبال کی بیٹی زیب جعفر اور بھتیجی مائزہ حمید جبکہ رکن آزاد کشمیر اسمبلی ناصر ڈار کی بہن کرن ڈار سمیت 15 اراکین کو ٹکٹ دیئے،دوسری جانب چوہدری جعفر اقبال کی اہلیہ عشرت جعفر نے پنجاب اسمبلی میں نشست حاصل کی۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے حنا ربانی کھر، شگفتہ جمانی، شازیہ مری، ناز بلوچ کو خواتین کی مخصوص نشست دی،دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے کشور زہرا جبکہ متحدہ مجلس عمل نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر کامران مرتضیٰ کی اہلیہ عالیہ کامران کو بلوچستان سے نامزد کیا ہے۔

ویڈیو دیکھیں: