قصور کی فضا سوگوار ،کشیدگی میں کمی،تعلیمی ادارے کھل گئے، تاجروں کی ہڑتال ختم

قصور کی فضا سوگوار ،کشیدگی میں کمی،تعلیمی ادارے کھل گئے، تاجروں کی ہڑتال ختم


قصور (24نیوز)7 سالہ زینب کے اغوائ، زیادتی اور بہیمانہ قتل کے بعد قصور میں 2 روز تک جاری رہنے والے پر تشدد احتجاجی مظاہرے تھم گئے اور شہر کی صورتحال آج پر امن ہے جبکہ شہر کی فضا آج بھی سوگوار ہے تعلیمی ادارے کھل گئے، تاجروں کی ہڑتال ختم کردی ہے۔
تفصیلات کے مطابق سانحہ قصور کو 3 روز گزرنے کے بعد بھی ننھی کلی کو روند دینے والا درندہ صفت تو آزاد ہے، تاہم پر تشدد مظاہروں کے دوران مشتعل ہجوم کی ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے بعد پولیس نے کریک ڈاون کیا اور ڈسٹرکٹ ہسپتال اور رکن صوبائی اسمبلی نعیم صفدر کے ڈیرے پر دھاوا بولنے والےکئی ملزم گرفتار کرلیے گئے۔
شہر میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے رینجرز کے 200 اہلکار بکتر بند گاڑیوں اور موبائل کے ساتھ پہنچ گئے اور فلیگ مارچ کیا، واضح رہے کہ محکمہ داخلہ پنجاب اور آئی جی نے 2 روز قبل رینجرز کو طلب کیا تھا۔
اعلیٰ حکام کے ساتھ اجلاس کے بعد تاجر برداری نے بھی ہڑتال ختم کرنےکا اعلان کیا، جس کے بعد صبح سویرے دکانیں کھل گئیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک بھی معمول کے مطابق رواں دواں ہے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب نے بچی کے قتل پر چالان آج ہی جمع کرانے کی ہدایت کی ہے اور ملزم کی نشاندہی پر ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان بھی کیا گیا ہے،وزیراعلیٰ پنجاب نے پولیس فائرنگ سے جاں بحق دونوں افراد کے لواحقین کے لیے بھی 30، 30 لاکھ روپے مالی امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ جاں بحق افراد کے لواحقین میں سے 2 کو ملازمت دی جائے گی۔
دوسری جانب مقتول بچی زینب کے والد محمد امین نے بھی قصور کے مشتعل مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل کی، جبکہ جے آئی ٹی کے سربراہ کو تبدیل کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
واضح رہے کہ قصور میں معصوم زینب کو اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے جا رہی تھی،ملزم نے بچی کو زیادتی کے بعد گلا گھونٹ کر قتل کر دیا تھا ،جس پرلوگ مشتعل ہو گئے اور شہر میں مظاہرے پھوٹ پڑے،آج صبح سویرے وزیر اعلیٰ شہباز شریف بھی مقتولہ زینب کے گھر گئے اور لواحقین سے اظہار تعزیت کیا۔

ویڈیو دیکھنے کیلئے یہاں کلک کریں