”زینب کو انصاف دو“معصوم چیخیں قومی اسمبلی تک جا پہنچیں


اسلام آباد(24نیوز)قتل ہونے والی معصوم زینب کی آواز ایوان زیریں تک جا پہنچی ، قومی اسمبلی اجلاس میں معصوم زینب، اصغر خان اور جنرل ر خالد شمیم وائیں کے لیے دعا مغفرت کی گئی ، سپیکر کہتے ہیں جو کچھ معصوم بچی کے ساتھ ہوا افسوسناک ہی نہیں شرم ناک ہے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتے ہی قصور میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی بچی زینب کےلئے دعائے مغفرت کی گئی اسپیکر ایاز صادق کہتے ہیں جو کچھ معصوم بچی کے ساتھ ہوا افسوسناک ہی نہیں شرم ناک ہے۔ خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ہم سب اولاد والے، بچوں والے ہیں۔بچی کے ساتھ جو ظلم ہوا اس پر الفاظ نہیں۔
محسن شاہ نواز رانجھا کا کہنا تھآ کہ اس واقعہ پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں کرنی چاہیئے ایسے مجرموں کو سر عام پھانسی دی جائے یہ سماجی معاشرتی دہشت گردی ہے۔ تحریک انصاف کی رکن اسمبلی شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ قصور میں 2015 میں دو سو سے زائد بچوں کو بدفعلی کا نشانہ بنایا گیا،زینب کے قتل پر شہریوں نے احتجاج کیا تو پولیس نے ان پر براہ راست فائر کیے،قراردادیں بے معنی ہیں ایکشن لینا چاہیئے۔
جے یو آئی ف کی رکن اسمبلی نعیمہ کشور کا قومی اسمبلی میں کہنا تھا کہ اس ملک کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کہتے ہیں یہ واقعہ پوری قوم کے منہ پر طمانچہ ہے،ایسے واقعات میں ملوث افراد کے لیے اللہ نے قرآن میں سزا مقرر کی ہے،،ایم کیو ایم کی رکن اسمبلی کشور زہرہ نے کہا زینب کے واقعے پر سیاسی بات نہیں کرنی چاہیئے لیکن سوالات کی زمہ دار حکومت ہے،جماعت اسلامی کے رکن صاحبزادہ طارق اللہ کا کہنا تھا حضرت علی فرماتے ہیں جس مقتول کو قاتل نامعلوم ہو اسکا قاتل حکمران ہوتا ہے
وزیر مملکت اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا اس سانحہ قصور پر پوری قوم شرمندہ ہے ، کوئی آنکھ ایسی نہیں جو اشک بار نہ ہو طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ قصور جیسے واقعات پورے ملک میں ہو رہے ہیں،پنجاب پولیس پر بے شمار تنقید کی جاتی ہے لیکن اسی پولیس میں شہدا بھی ہیں اور ایماندار لوگ شامل ہیں-