حضور! آپ نے کون سا معاشی انقلاب برپا کیا؟

محمد عبداللہ

11:42 PM, 12 Jan, 2018

محمد عبداللہ

ملک خداداد پاکستان میں جمہوریت کے علمبردار حکمرانوں، فوجی جرنیلوں، سیاست دانوں، بیوروکریسی اور صنعتکاروں سمیت ہر صاحبِ حیثیت شخص نے اپنی استعداد کے مطابق کرپشن کی بہتی گنگا میں اشنان کیا اور راتوں رات ککھ پتی سے لکھ پتی ہی نہیں بلکہ کروڑ، ارب اور کھرب پتی بن گئے۔

پاکستان کو ترقی کی معراج پر پہنچانے والے منافع بخش اداروں اور صنعتوں کو من پسند لوگوں میں ریوڑیوں کی طرح بانٹا گیا جس سے ملک کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا۔ وقت کے حکمرانوں نے پرانا کشکول توڑ کر وعدوں کی مینا کاری اور امیدوں کی جھالر سے آراستہ نیا اور خوبصورت کشکول تیار کر لیا اور قوم کو ”ملک ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے“ جیسے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگائے رکھا۔ ستر کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کی طرف سے پرائیویٹ انڈسٹری کو قومیائے جانے پر ملک بھر کے صنعتکار وں کو کافی نقصان پہنچا۔ امپورٹڈ سوٹ پہننے والوں کے جسم پر چیتھڑے رہ گئے، شاہانہ لائف سٹائل کے دلدادہ اور کئی گاڑیوں کے مالک فٹ پاتھ پر آ گئے۔ منرل واٹر پینے والے پانی کی ایک ایک بوند کو ترس گئے۔

یہ بھی پڑھئے: پاکستان اور چین نے ڈالر کو خدا حافظ کہہ دیا

بھٹو کی حکومت کے خاتمہ کے بعد جنرل ضیاءالحق ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بن گئے۔ جنرل ضیاءکے دورِ حکومت میں صنعتوں کے قومیائے جانے کے مسئلہ کے حل کے لیے ایک کمیشن بنایا گیا جو صنعتکاروں کے زخموں پر مرہم رکھنے میں ناکام رہا۔ میاں محمد نواز شریف جب پہلی بار ملک کے وزیرِ اعظم بنے تو انہوں نے22جنوری 1990ءکو نجکاری پروگرام کا آغاز کیا۔ اس پروگرام کے دو اہم مقاصد تھے؛ پہلا مقصد فری مارکیٹ اکنامک کے اصول وضع کرنا، دوسرا بیرون ملک سرمایہ کاری کرنے والوں کو پاکستان میں انوسٹمنٹ کرنے پر مائل کرنا تھے۔

پڑھنا نہ بھولئے:پاکستان میں ’سونا‘ بیچنے والوں کی ’چاندی‘ ہو گئی

نجکاری پروگرام کی آڑ میں فروری 1991ءمیں الائیڈ بنک لمیٹڈ کے51فیصد شیئرز، 971.6ملین روپے میں ای ایم جی گروپ کو فروخت کیے گئے۔ مسلم کمرشل بنک کے75فیصد شیئرز نیشنل گروپ کے ہاتھ 2420 ملین روپے میں دیئے گئے۔ 1991 ءسے لے کر آج تک ڈی جی خان سیمنٹ، بنک الفلاح، اٹک ریفائنری، کوٹ ادو پاور پلانٹ، پی ٹی سی ایل، الغازی ٹریکٹرز، نیشنل موٹرز، ملت ٹریکٹرز، بلوچستان ویلز، ڈنڈوت سیمنٹ، غریب وال سیمنٹ، نوشہرہ کیمیکلز اور پاکستان سوئچ گیئر سمیت کل 161ادارے بیچے جا چکے ہیں جن سے مجموعی طور پر 378ارب روپے حاصل ہوئے۔

اہم خبر:حکومت پاکستان نے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا قرضہ لے لیا

پاکستان نجکاری کمیشن کے چارٹر کے مطابق صرف وہ صنعتی، مالیاتی اور تجارتی ادارے بیچے جائیں گے جو ملکی خزانہ پر بوجھ ہوں۔ جنرل پرویز مشرف کے8 سال 5 ماہ کے دور حکومت میں کرپشن، لوٹ مار اور بدعنوانی کی نئی تاریخ رقم ہوئی۔ دیوالیہ ہوتے پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے پرویز مشرف نے سٹی بنک کے عہدیدار شوکت عزیز کو وزیر خزانہ مقرر کیا۔ شوکت عزیز، پرویز مشرف سے زیادہ ورلڈ بنک کا انتخاب تھے۔ عالمی مالیاتی اداروں آئی ایم ایف، ورلڈ بنک اور ایشائی ترقیاتی فنڈز نے پرویز مشرف کو شوکت عزیز کے لیے راضی کیا تاکہ وہ مالیاتی اداروں کے علاوہ بڑے بڑے بزنس ٹائکونز کے مفادات کی چوکیداری کر سکیں۔

خاص خبر:زرمبادلہ کے ذخائر تنزلی کا شکار،سال کے پہلے ہفتہ13کروڑ ڈالر کی کمی

شوکت عزیز نے اداروں کی نجکاری کی ایسی داغ بیل ڈالی اور اسے جدید تقاضوں سے ایسے ہم آہنگ کیا کہ قومی مفادات کھوہ کھاتے میں چلے گئے اور خریداروں کے مفادات کے تحفظ کی بدولت سرمایہ دار تو دولت میں کھیلنے لگے جبکہ عوام غربت کی چکی میں پستے چلے گئے۔
تاریخ گواہ ہے کہ فروخت کیے جانے والے اداروں کی اصل قیمت ان کی قیمت فروخت سے کئی سو گنا زیادہ تھی۔ مشرف دور کی جرنیلی جمہوریت کے دوران پاکستان کا سب سے بڑا بنک، حبیب بنک آغا خان گروپ کو فروخت کیا گیا۔ شوکت عزیز نے الائیڈ بنک اور یو بی ایل کو بھی اونے پونے داموں میں بیچ دیا۔

مزید جانئے:موسم سرما کی آمد، سوغات حشک میوہ جات کی قیمتیوں میں اضافہ
وفاقی کابینہ کے ایک اجلاس میں شوکت عزیز نے نیشنل بنک کو فروخت کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ قومی مالیاتی امور کو عسکری بنک دیکھ لے گا جس پر تمام حاضرین انگشت بدنداں رہ گئے۔ یہ بھی شوکت عزیز کا ہی کارنامہ ہے کہ پی ٹی سی ایل کے 42فیصد شیئرز21ارب میں بیچ دیئے گئے اور انتظامی امور بھی خریدار کے حوالے کر دیئے۔ شوکت عزیز نے سٹی بنک کے چند بڑے اکاﺅنٹ ہولڈرز کا گروپ بنوا کر 200ارب مالیت کی سٹیل مل بھی23ارب میں فروخت کر دی۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے از خود نوٹس لے کر ملکی تاریخ کی سب سے بڑی ڈکیتی کو ناکام بنایا۔

متعلقہ خبر : اسٹیل ملز کی بربادی، ذمہ داروں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ

آج جب وقت کے حکمرانوں کے گرد شفاف اور غیر جانبدار احتساب کا شکنجہ کسا جا رہا ہے تو مقتدر اداروں کا فرض ہے کہ ملک کے منفعت بخش اداروں کو کوڑیوں کے بھاؤ بیچنے والوں کو بھی قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے اور ان سے پوچھا جائے کہ حضور 161ملکی اداروں کو 378ارب میں بیچ کر آپ نے کون سا معاشی انقلاب برپا کیا؟ صرف ایک سیکٹر کے اداروں کو بیچ کر من پسند لوگوں کو 700ارب کا فائدہ کیوں پہنچایا گیا؟ ملک کے بڑے بزنس ٹائکونز کے مفادات کو تحفظ فراہم کر کے ملکی معیشت کا جنازہ نکالنے کے پیچھے کون سا راز پنہاں ہے؟ ارباب بست و کشاد کے اپنے بزنس تو دن دُگنی اور رات چگنی ترقی کر رہے ہیں جبکہ ملکی ادارے جیسے پی آئی اے، پاکستان سٹیل مل کیوں خسارے میں ہیں؟ پاکستان سٹیل مل اور پی آئی اے جیسے اداروں کو سفید ہاتھی قرار دینے والوں نے ان اداروں کی بحالی اور ترقی کے لیے ٹھوس، دیر پا اور مؤثر اقدامات کیوں نہیں کیے؟
یہ سب سوالات وقت کی ایک لمبی مسافت طے کرنے کے باوجود بھی جوابات کے انتظار میں آنکھوں کو دہلیز پر رکھے ہوئے ہیں!

مزیدخبریں