نعت خواں جنید جمشید کا طیارہ گرنے کی وجوہات سامنے آگئیں

نعت خواں جنید جمشید کا طیارہ گرنے کی وجوہات سامنے آگئیں


اسلام آباد (24 نیوز) دوبرس قبل حویلیاں کے قریب اے ٹی آر طیارے حادثے کی وجوہات سامنے آگئیں، سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ نے طیارے میں اہم تکنیکی خرابیوں کی نشاندہی کی جبکہ تحقیقاتی رپورٹ نے پی آئی اے کی انجینئرنگ کی کاکردگی پرسوالیہ نشان لگادیا۔

لاجواب لوگوں کی فاش غلطی نےقیمتی جانیں نگل لیں۔حویلیاں میں گرنےوالےطیارےکی ذمہ داری پی آئی اے مرمتی شعبہ پرپڑ گئی۔ دوبرس قبل معروف نعت خواں جنید جمشید کا طیارہ گرنے کی وجوہات سامنے آگئیں۔سیفٹی انوسٹی گیشن بورڈ نے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں پی آئی اے کی جانب سے طیاروں کے منٹیننس کے نظام میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کردی۔

ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا کہ طیارے کے انجن نمبر ون کا پاور ٹربائن بلیڈ ٹوٹ کر طیارے کے انجن میں چلے جانے کی وجہ سے انجن بند ہوا  اور طیارہ گر کر تباہ ہوگیا۔طیارے کی آخری جانچ اور مرمت حادثے سے 25 دن پہلے ہوئی تھی۔ اس وقت تک انجن کے پاور ٹربائن بلیڈز 10 ہزار چار گھنٹے چل چکے تھے، بلیڈز فوری تبدیل ہونا لازمی تھے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے فلائٹ اسٹینڈرڈ ڈپارٹمنٹ نے طیارے کو درست طریقے سے چیک نہیں کیا اور پرواز کی اجازت دی۔

حادثات کی تحقیقات کرنے والے ادارے سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ نے پی آئی اے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی دونوں کو حادثے کا ذمے دار قرار دیا ۔ 7 دسمبر 2016 کو ہونے والے حادثے میں جنید جمشید اور ان کی اہلیہ سمیت 47 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔