امر یکہ، شٹ ڈاؤن کے سبب 8 لاکھ افراد تنخواہ سے محروم

امر یکہ، شٹ ڈاؤن کے سبب 8 لاکھ افراد تنخواہ سے محروم


واشنگٹن ( 24 نیوز ) امریکی حکومت کا جزوی شٹ ڈاؤن اب تک کا سب سے طویل شٹ ڈاؤن ہو گیا ہے اور مستقبل قریب میں اس سیاسی تعطل کے خاتمے کے آثار نظر نہیں آتے ہیں۔ دوسری طرف اس کے نتیجے میں آٹھ لاکھ وفاقی ملازمین کو تنخواہ نہیں ملی ہے اور وہ اپنی چیزیں فروخت کرنے کے لیے اشتہار دے رہے ہیں جبکہ ایک اہم ہوائی اڈا اپنا ایک ٹرمینل پوری طرح بند کرنے پر غور کر رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جزوی شٹ ڈاؤن آج 22ویں دن میں پہنچ کر صدر بل کلنٹن کے دور صدارت میں 1995-96 کے 21 دن کے ریکارڈ شٹ ڈاؤن سے آگے نکل گیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بجٹ کی منظوری سے اس وقت تک انکار کیا ہے جب تک  کہ اس میں امریکہ کے ساتھ میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کے لیے رقم کو  شامل نہیں کیا جاتا۔ ڈیموکریٹس ایوان نمائندگان نے ان کے پانچ ارب 70 کروڑ ڈالر کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔

اس سیاسی تعطل کے نتیجے میں حکومت کے تقریباً ایک تہائی شعبے کا کام کاج ٹھپ ہے اور تقریباً آٹھ لاکھ ملازمین کو ماہانہ تنخواہ نہیں ملی ہے۔جن آٹھ لاکھ افراد کو رواں ماہ تنخواہ نہیں ملی ہے ان میں سے ساڑھے تین لاکھ کو عارضی طور پر چھٹی دے دی گئی ہے جبکہ باقی اپنا کام کر رہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق ہزاروں افراد نے مالی عدم استحکام کے پیش نظر بے روزگاری کا وظیفہ حاصل کرنے کے لیے عرضی داخل کرنی شروع کر دی ہے۔