پولیس کے ظلم کی ایک اور داستان، اساتذہ کے ساتھ انسانیت سوز سلوک

پولیس کے ظلم کی ایک اور داستان، اساتذہ کے ساتھ انسانیت سوز سلوک


ڈی جی خان(24نیوز) ڈیرہ غازی خان میں پیف پالیسی 2019 کے خلاف پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن کو احتجاج کرنا مہنگا پڑ گیا, مظاہرین نے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان خان بزدار کی رہائش گاہ بلاک 17 کے باہر احتجاج کرنے کی کوشش کی جس پر پولیس نے مظاہرین پر تشدد کر دیا۔

پرائیوٹ سکول ایسوسی ایشن کے اساتذہ کو پیف داخلہ پالیسی 2019 کے خلاف احتجاج کرنا اس وقت مہنگا پڑا جب اساتذہ ٹریفک چوک سے وزیر اعلیٰ پنجاب کی رہائش گاہ بلاک 17 کی جانب بڑھے، وزیر اعلی پنجاب کی گلی کے باہر پولیس کی بھاری نفری پہلے سے موجود تھی۔ مظاہرین جیسے ہی وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان خان بزدار کے گھر کو جانے والی گلی کے قریب پہنچے تو پولیس نے مظاہرین کو گلی کے کارنر پر ہی روک دیا جس پر مظاہرین نے گلی کے کارنر پر احتجاجی دھرنا دے دیا۔

پولیس کی جانب سے مظاہرین سے مزاکرات کیے گئے مگر مزاکرات ناکام ہو ئے۔ مظاہرین نے وزیر اعلیٰ کے گھر کی گلی کی طرف بڑھنے کی کوشش تو پولیس نے مظاہرین پر تشدد شروع کر دیا۔ پولیس نے متعدد مظاہرین کو گرفتار کے تھانہ میں بند کر دیا۔

ضرور پڑھیں:انکشاف 16 جون 2019

گرفتار ہونے والے متعدد اساتذہ نے اپنی بیمار کے متعلق بھی پولیس کو بتلایا مگر پولیس کی جانب سے اساتذہ کی ایک نہ سنی گئی۔ اساتذہ کا کہنا تھا وہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی رہائش گاہ کے باہر ایک پر امن احتجاج ریکارڈ کروانا چاہتے ہیں مگر ان کو احتجاج ریکارڈ نہیں کروانے دیا جا رہا۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔