"ہمارے ججز جتنا کام کررہے ہیں اتنا دنیا میں کوئی جج نہیں کرتا"



اسلام آباد( 24نیوز ) چیف جسٹس نے کہا کہ بدقسمتی سے انصاف کا شعبہ پارلیمنٹ کی ترجیحات میں شامل نہیں ماضی میں فیصلوں میں تاخیر میں کمی کے لئے کئی تجربات کئے گئے،ہمارے ججز جتنا کام کررہے ہیں اتنا دنیا میں کوئی جج نہیں کرتا۔

تفصیلات کے مطابق  چیف جسٹس   آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نےاسلام آباد میں جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے انصاف کا شعبہ پارلیمنٹ کی ترجیحات میں شامل نہیں ماضی میں فیصلوں میں تاخیر میں کمی کے لئے کئی تجربات کئے گئے، کبھی قانون میں ترمیم تو کبھی ڈومور کی تجویز دی گئی، ججز کواس سے زیادہ ڈومور کا نہیں کہہ سکتے،ہمارے ججز جتنا کام کررہے ہیں اتنا دنیا میں کوئی جج نہیں کرتا،ملک میں مجموعی طور پر تین ہزار ججز ہیں, گزشتہ سال عدالتوں نے 34 لاکھ مقدمات نمٹائے, ججز کو اس سے زیادہ ڈو مور کا نہیں کہ سکتے۔

  چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالتی جائزہ سے پہلے بہتر ہوگا پارلیمنٹ ایسے قوانین کا جائزہ لے،جائیداد کے تنازعات کے فیصلے پولیس رپورٹس پر ہوتے ہیں کیا پولیس کا کام ہے کہ فریقین کے حقوق کا تعین کرے؟ سول مقدمہ میں پولیس کے کردار کا قانون سمجھ سے بالاتر ہے، اٹارنی جنرل کے ذریعے معاملہ حکومت کے نوٹس میں لائے پارلیمنٹ خود اپنے بنائے ہوئے قوانین کا جائزہ لے، انسداد دہشتگردی قانون دیکھیں تو چوری اور زناء بھی دہشتگردی ہے۔

ضرور پڑھیں:انکشاف15 جون 2016

  چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت نے دہشتگردی دفعات کا جائزہ لینے کیلئے لارجر بینچ بنایا، لارجر بینچ کا فیصلہ محفوظ ہےاس لیے اس پر بات نہیں کروں گا، یہ پارلیمنٹ کا کام ہے کہ انسداد دہشتگردی کے قانون کو آسان بنائے، خطاب کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ججز سماعت کیساتھ ہی فیصلہ لکھنا شروع کر دیں ساتھ ساتھ فیصلہ لکھا جاتا رہے تو دلائل مکمل ہوتے ہی فیصلہ بھی تیار ہوگا، اعلیٰ عدلیہ ہر سماعت کا مکمل حکمنامہ لکھواتی ہے ساتھ ساتھ لکھا جائے تو سماعت مکمل ہونے کے اگلے ہی دن حتمی فیصلہ آسکتا ہے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ جج بنا تو پہلے دن سے ہی مشن تھا کہ مقدمات کے جلد فیصلے کیے جائیں، بار میں وکلاء مجھے اور ساتھی ججز کو جنون گروپ کہتے تھے، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ سستا اور فوری انصاف فراہم کرے،جج بننے سے پہلے 20 سال بطور وکیل خدمات انجام دیں ،ان کا کہنا تھا کہ ماڈل کورٹس کا قیام ایک مشن کے تحت کیا گیا ، ماڈل کورٹس کے قیام کے پیچھے ایک جذبہ اور عزم تھا ۔

ماڈل کورٹس کے ججز کا کردار ناقابل فراموش ہے، ایک ماہ بعد ماڈل کورٹس میں ایک ایک ججز کا اضافہ کرینگے، کوشش ہوگی نئی ماڈل کورٹس سول مقدمات کی ہوں,پہلے مرحلے میں فیملی اور کرایہ داری مقدمات نمٹائے جائیں گے، چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ کوشش ہے کہ آہستہ آہستہ تمام ججز ماڈل کورٹس کے ججز بن جائیں۔

M.SAJID KHAN

CONTENT WRITER