ذیابیطس کے مریض یہ خبر ضرور پڑھیں

ذیابیطس کے مریض یہ خبر ضرور پڑھیں


اسلام آباد(24نیوز)پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ذیابیطس سے بچاؤ اور آگاہی کا عالمی دن منایا جارہا ہے، طبی ماہرین کے مطابق پاکستان میں ذیابیطس سے متاثرہ افراد کی تعداد پانچ کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔

انسانی طرز زندگی میں آنے والی تبدیلی سے ذیابیطس کا مرض تیزی سے بڑھ رہا ہے، ماہرین کے مطابق پاکستان میں ذیابیطس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد دو کروڑ سے بڑھ کر پانچ کروڑ ہوگئی ہے۔ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں آج بھی لوگ انسولین کی بجائے میڈیسن پرہی اکتفا کرتے ہیں جبکہ ترقی پذیر ممالک میں ذیابیطس کا علاج جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے۔ 

معروف فزیشن پروفیسر ڈاکٹر فیصل مسعود کہتے ہیں شوگر کا مرض وبائی شکل اختیار کر رہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ  پچاسی فیصد مریض شوگر کی ٹائپ ٹو کا شکار ہیں ۔ ان کے مطابق شوگرکا عارضہ خون کی نالیوں کو تنگ کرکے دل ، دماغ ، پھیپھڑوں ، گردوں سمیت اعصابی نظام کو متاثر کرتا ہے۔

ضرور پڑھیں:انکشاف، 24 اگست2019

 ماہرین میڈیسن پروفیسر ڈاکٹر عامر حسین کا کہنا ہے کہ شوگر جیسی بیماری کی دواقسام ہیں اور جسم میں چربی کا بڑھنا اس بیماری کا سبب بنتا ہے جسکی بڑی وجہ فاسٹ فوڈ اور کھیلوں کی سرگرمیوں کی بجائے نیٹ کے استعمال کے باعث بیٹھے رہنا بن رہا ہے۔

ہر بارہ میں سے ایک انسان اس بیماری میں مبتلا ہے جس سے بچنے کے لئیے اپنے معالج سے چیک اپ کرواتے رہنا چاہیے جس میں ناشتہ سے پہلے سو ملی گرام اور دو گھنٹے بعد ایک سو چالیس ملی گرام شوگر ہونی چاہیے۔ اگر اس سے زیادہ ہو تو سمجھئے آپ شوگر کے مریض ہیں جس کے بعد سادہ غذا کا استعمال اور ورزش کو معمول بنالیں۔ نہیں تو گولیاں یا پھر انسولین لگوانی پڑسکتی ہے۔

عالمی دن کے موقع پر ماہرین امراض نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ شوگر ایک خاموش قاتل ہے جس سے بچنے کے لیے اپنے آپکو معالج سےچیک اپ کرواتے رہنا چاہیے تاکہ گردوں کو ناکارہ اور ہارٹ اٹیک جیسی بیماریوں سے بچاجاسکے۔ طبی ماہرین کے مطابق  شوگر کے مریض وزن میں کمی لائیں تو اس سے بہتری آئے گی ۔  اگر شوگر کے مرض سے چھٹکارا پانا ہے تو سادہ غذا ، ورزش اور متحرک لائف سٹال اپنانا ہوگا ۔ 

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔