آرڈیننس کیس:صدر ،وزیر اعظم سے جواب طلب

آرڈیننس کیس:صدر ،وزیر اعظم سے جواب طلب


اسلام آباد( احتشام کیانی ) اسلام آباد ہائیکورٹ نے صدارتی آرڈیننس کے خلاف مسلم لیگ ن کی درخواست پرفریقین کو نوٹس جاری کردیا، عدالت نے صدراور وزیراعظم سے سیکرٹریز کے ذریعے دو ہفتوں میں جواب طلب کرلیا۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمنٹ کے بجائے عدالت سے رجوع کرنا کیا پارلیمنٹ کی توہین نہیں؟؟؟، چیف جسٹس نے زیرسماعت مقدمے پربات کرنے پرمسلم لیگ ن کے رہنمامحسن شاہنواز رانجھاکےخلاف توہین عدالت کی کارروئی کاعندیہ بھی دے دیا۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے صدارتی آرڈیننس کےخلاف مسلم لیگ ن کی درخواست کی سماعت کی،محسن شاہنوازرانجھا عدالت کے روبرو پیش ہوئے،دوران سماعت محسن شاہنوازرانجھا نے کہا کہ حکومت نے ایک دن میں 8 آرڈیننس منظور کئے، آرڈیننس کو نہیں بلکہ جس طرح پاس کیا گیا اس طریقہ کار کو چیلنج کیا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ کا کہنا تھا کہ یہ تو اچھے ایشوزاورعوامی مفاد پرآرڈیننس ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ کیا سپیکرقومی اسمبلی کے ساتھ یہ معاملہ اٹھایا ہے؟؟محسن شاہ نوازرانجھا بولے اسپیکرکولکھا ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ رکن اسمبلی کی ذمہ داری ہے کہ عدلیہ کوسیاسی معاملات سے دوررکھے،آرڈیننس کی ایک مدت ہوتی ہے اس میں توسیع نہیں ہوسکتی۔

درخواست گزارنے 1947 میں پاس کیے گئے آرڈیننس کا ذکرکیا توجسٹس اطہرمن اللہ کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ملک میں آمریت رہی،اس لیے اتنے صدارتی آرڈیننس پاس ہوئے، عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا اور اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کو بھی طلب کرلیا۔

چیف جسٹس نے محسن شاہ نواز رانجھا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ زیر سماعت مقدمے پربات کرنے سے روکا تھا،آپ نے عدالت کا حوالہ دے کرکہا کہ صدر پاکستان کا مواخذہ کیا جاسکتا ہے،عدالت نے ایسی بات کب کی؟؟کیوں نہ آپ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔محسن شاہ نوازرانجھا نے عدالت سے معافی کی استدعا کی جس پرچیف جسٹس نے کہاکہ چلیں دیکھتے ہیں اس معاملے کا کیا کرنا ہے۔

Azhar Thiraj

Senior Content Writer