العزیزیہ ریفرنس،واجد ضیاءکے بیان میں بڑا تضاد سامنے آگیا


اسلام آباد( 24نیوز )احتساب عدالت میں نواز شریف اور ان کے بیٹوں کے خلاف العزیزیہ ریفرنس کی سماعت، واجد ضیاءکہتے ہیں سپریم کورٹ کے زبانی حکم پر جے آئی ٹی نے والیم ٹین کو سیل کر کے رجسٹرار سپریم کورٹ کو جمع کروا دیااور اپنے پاس کوئی کاپی نہیں رکھی ۔
نواز شریف کیخلاف العزیزیہ ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت میں ہوئی،سابق وزیر اعظم کو ایک روز کے لیے حاضری سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔
احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے ریفرنس کی سماعت کی تو خواجہ حارث نے واجد ضیاءپر جرح جاری رکھی۔ جے آئی ٹی سربراہ نے سوالات کے جواب میں بتایا کہ سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی رپورٹ جمع کراتے وقت والیم ٹین سیل نہیں تھا۔ پھر سپریم کورٹ نے زبانی حکم دیا تو والیم ٹین کی پانچ کاپیاں کراکے سیل شدہ رپورٹ جمع کرائی۔
واجد ضیاءنے انکشاف کیا کہ جے آئی ٹی نے اپنے پاس والیم ٹین کی کوئی کاپی نہیں رکھی تاہم خواجہ حارث نے بتایا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں واجد ضیاءنے کہا تھا والیم ٹین کی ایک کاپی رکھی تھی، خواجہ حارث نے بیان میں تضاد نوٹ کرادیا۔
نیب پراسیکیوٹر نے کہا گواہ کے کسی دوسرے ریفرنس میں پرانے بیان پر تضاد نہیں نکالا جاسکتا، عدالت نے کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی، آئندہ سماعت پر بھی خواجہ حارث جرح جاری رکھیں گے۔
یاد رہے سابق وزیر اعظم نواز شریف ،بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن(ر)محمد صفدرکو ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا ہوچکی ہے اور وہ اڈیالہ جیل میں اپنی قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔