قومی اسمبلی اجلاس: آج بھارت منہ دکھانے کے قابل نہیں:شاہ محمود قریشی



اسلام آباد(24 نیوز) قومی اسمبلی کا اجلاس پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں جاری ہے جس میں ارکان اسمبلی مختلف ایشوز پر بات کررہے ہیں،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم نے پوری دنیا میں بات کی ہے آج بھارت منہ دکھانے کے قابل نہیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن کے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وضاحت مانگی ہے کہ کسی انٹرویو میں کہہ دیا کہ خدانخواستہ جموں اینڈ کشمیر ہندوستان کا حصہ ہے، میں اپنے خطوط، سیکیورٹی کی بحث، اپنے بیان کو آپ کی خدمت میں پیش کر دیتا ہوں آپ مطمئن رہیں میرا موقف وہی ہے جو آپ کا ہے آج ہندوستان جتنی دفاعی پوزیشن میں ہے اتنا ماضی قریب میں دکھائی نہیں دیا ،ہندوستان کو ہر فورم پر سبکی اٹھانا پڑی اللہ کے فضل سے اٹھاون ممالک نے پاکستان کے موقف کی توثیق کی۔

انہوں نے کہا کہ کل امریکی کانگریس کے چار سینٹرز نے صدر ٹرمپ کو کشمیر کے تشویشناک مسئلے میں مداخلت کے لیئے خط لکھا ہے، 17 ستمبر کو پہلی مرتبہ یورپین پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر اٹھایا جائے گا ،مسئلہ کشمیر پر دھول پڑی ہوئی تھی آپ کی حکومت نے اجاگر کیا ہے 27 ستمبر کو جنرل اسمبلی میں عمران خان کشمیر کی آواز بلند کرے گا۔

،خواجہ محمد آصف اور سپیکر قومی اسمبلی میں دلچسپ مکالمہ

اس سے قبل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے  مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ محمد آصف نے کہا کہ  الیکشن کمیشن کے دو نئے ممبران کی تقرری پر صدر مملکت نے آئین کی دھجیاں بکھیریں، صدر پاکستان کو الیکشن کمیشن کے ممبران کے آرڈیننس کا کوئی اختیار نہیں ،جناب اسپیکر اس معاملے کو آپ توجہ دیں ورنہ ہم عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس ایوان کے معزز ممبران کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونے پر احتجاج کرتا ہوں، آصف علی زرداری، رانا ثناء، شاہد خاقان عباسی اور خواجہ سعد رفیق ایوان کے معزز ممبران ہیں ،چئیرمین سینٹ نے بڑے دل کے ساتھ کامران مائیکل کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے ،ہم نے چئیرمین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے لئےووٹ مانگے ان تمام تر باتوں کے باوجود چئیرمین سینٹ نے پروڈکشن آرڈر جاری کئے جناب اسپیکر کیا آپ سے ذیادہ اختیارات چئیرمین سینٹ کے پاس ہیں؟

سپیکر اسد قیصر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جتنے پروڈکشن آرڈر میں نے جاری کئے وہ کسی اسپیکر نے جاری نہیں کئے، خواجہ آصف نے کہا کہ اگر آپ نے سب سے ذیادہ پروڈکشن آرڈر جاری کئے ہیں تو بندے بھی تو سب سے ذیادہ آپ نے اندر کئے ہیں۔

ہم پارلیمنٹ توڑنے کے حق میں نہیں،حکومت بھیڑیے کی طرح بہانے نہ بنائے:خورشید شاہ

پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے کہا کہ  اچھے جذبے کا اظہار اسد عمر نے کیا، ان کا فوکس مسلم ریاست تھا جس کو ہم آج بھی مانتے ہیں اور آنیوالی نسلیں بھی مانیں گی، پاکستان بہت بڑی نعمت و چھاؤں ہیں، اس وطن میں ہم چاہے کچھ بھی ہوں البتہ دنیا سے باہر ہم صرف پاکستانی ہیں ،اگر تاریخ کا حوالہ آپ دیتے ہیں تو پھر اس کا کریڈٹ بنگال اور سندھ کو جاتا ہے کوئی اپنی تاریخ بنالے تو پھر کیا کہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب سندھ میں الیکشن ہوئے تو آدھی نشستیں کانگریس اور آدھی مسلم لیگ نے جیتیں ،جی ایم سید پکے مسلم لیگی تھے اور قائد کے آگے جھنڈا لے کر چلتے تھے، تین نشستیں مسیحی افراد کی تھیں، جو غیر جانبدار ہوگئے، تین دن گھنٹی بجتی رہی نوید قمر کے نانا میرمحمد شاہ سپیکر تھے، سندھ اسمبلی نے قراردار منظور کی اور لیاقت علی خان نے جھنڈا لہرایا ،سندھی اسی وجہ سے تھوڑے سے مغرور ہیں، پاکستان سب نے ملکر بنایا لیکن قرارداد صرف بنگال اور دوسری سندھ میں منظور ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک گلدستہ ہے لیکن اس کو منتشر کون کررہا ہے ، ہم گریز کررہے ہیں مگر حکومت نے پھر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کراچی میں آپ کو سب قومیتیں ملیں گیں، لیکن 149 کا تذکرہ کیا جارہا ہے کچرے پر سیاست کی جارہی ہے، ہم حکومت کے خلاف ضرور ہیں مگر پارلیمنٹ توڑنے کے بالکل حق میں نہیں ہیں ،بھیڑے کی طرح حکومت بہانے مت بنائے، فیڈریشن کی بات کریں اس وقت ایک لچر شخص ہندوستان کا حکمران ہے، کشمیر کی صورتحال سامنے ہے اس وقت ایران کی صورتحال، افغان مذاکرات صورتحال سامنے ہے جب ذمہ دار لوگ ایسے خطرات میں ایسی بات کرینگے تو صورتحال تشویشناک ہوگی جیوے میرا پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخواہ اور سندھ، تبھی بنے گا پاکستان، اور پارلیمان چلے گا۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer