’’مسئلہ کشمیر پر بات چیت کیلئے تیار، امن کوششوں کو کمزوری نہ سمجھا جائے‘‘


اسلام آباد (24نیوز) چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے بات چیت پر تیار ہیں۔ امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ جارحیت کرنے والوں کو پاکستان کے جواب کا اندازہ بھی نہیں۔ پاکستان کشمیریوں کے حق خودارادیت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں کورسز کی پاسنگ آؤٹ پریڈ ہوئی۔ جس میں آرمی چیف نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ 137ویں پی ایم اے لانگ کورس میں آٹھوں مجاہد کورس بھی پاس آوٹ ہوئے۔ فاٹا کے 31، بلوچستان کے 67 اور سعودی عرب کے 6 کیڈٹس بھی کی پاسنگ آؤٹ ہوئی۔

اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا خطاب کے دوران کہنا تھا کہ پاکستان امن پسند ملک ہے۔ ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ افواج پاکستان کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ جارحیت کرنے والوں کو پاکستانی جواب کا انداز بھی نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: کامن ویلتھ گیمز  میں پاکستان کا پہلا گولڈ میڈل، آرمی چیف کی انعام بٹ کو مبارکباد 

انھوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعہ حل کرنے کے قائل ہیں۔ ہمسایوں کے ساتھ امن اور صلح جوئی سے رہنا چاہتے ہیں۔ ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ہم کشمیریوں کے بنیادی حق خود ارادیت کی حمایت کرتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے مظالم عوام جبر اور بربریت کا شکار ہیں۔ مقبوضہ وادی کے عوام ریاستی دہشت گردی کا شکار ہو رہےہیں۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع ہے۔ اس کو بات چیت کے ذریعہ حل کرنا چاہتے ہیں۔ مسئلہ پر بات چیت باوقار اور برابری کی بنیاد پر کرنے کے قائل ہیں۔

پڑھنا نہ بھولئے: امریکہ کاشام پر حملہ، برطانیہ ، فرانس کی حمایت 

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاسنگ آوٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یاررکھیں آپ نے اپنی جرات اور بہادری کا عملی ثبوت اسی فورس میں دینا ہے۔ آپ اس وقت دنیا کی جدید ترین فورسز کے ساتھ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ میں اعتماد کے ساتھ کہ سکتا ہوں کہ آپ مشکل سے مشکل امتحان میں بھی پورا اتریں گے۔