راول ڈیم کرپشن سکینڈل، سپریم کورٹ، نیب کو درخواستیں ارسال


اسلام آباد (24نیوز) راول ڈیم انتظامیہ کی ملی بھگت، کروڑوں کے گڑبڑ گھوٹالے کا انکشاف، ڈیم انتظامیہ کے خلاف سپریم کورٹ اورنیب کو مبینہ کرپشن پر درخواستیں ارسال کر دی گئیں۔ درخواست میں سکیورٹی بھرتیوں اور آہنی باڑ کے حوالے سے بے ضابطگیوں کے بھی انکشافات کیے گئے ہیں۔

24نیوز کے مطابق راول ڈیم انتظامیہ کی ملی بھگت سے کروڑوں روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔ ڈیم انتظامیہ کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان اور نیب کو درخواستیں ارسال کر دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت کی اگلے بجٹ میں تنخواہ دار طبقہ کیلئے بڑی پیش کش 

راول ڈیم سکیورٹی خدشات کے باعث بند ہونے کے باوجود 2017 میں 115 افراد کو بھرتی کیا گیا۔ 2007 میں راول ڈیم کے گرد آہنی باڑ لگائی گئی۔ حیرت انگیز طور پر سال 2015 اور 16 میں دوبارہ جنگلہ لگایا گیا۔ تیسری مرتبہ 2017 میں آہنی باڑ کی مد میں کرپشن کی گئی۔

فینس اور باونڈری کا ریکارڈ جو دستاویزات میں ظاہر کیا گیا ہے اس کا موقع پر وجود ہی نہیں ہے۔ راول ڈیم انتظامیہ کی جانب سے 7 ٹیوب ویل نصب کیے گئے، جن میں سے ایک بھی فعال نہیں ہے۔ ڈیم انتظامیہ کی ملی بھگت سے معمولی خرابی کا شکار ٹرانسفارمر واپڈا کے لائن سپریٹینڈنٹ کو فروخت کر دیا گیا۔

پڑھنا نہ بھولئے: چیف جسٹس، خواجہ سعد میں دلچسپ مکالمہ، ریلوے آڈٹ کا حکم 

راول ڈیم کے دو ریسٹ ہاؤسز کو اعلیٰ افسروں نےعیاشی کا اڈا بنا رکھا ہے۔ آئے روز ڈانس پارٹیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کے باوجود وی آئی پیز کو کشتی رانی کی سیر کروائی جاتی ہے۔