مستونگ دھماکہ میں سراج رئیسانی کی تدفین آج ہوگی، ہر آنکھ اشکبار

مستونگ دھماکہ میں سراج رئیسانی کی تدفین آج ہوگی، ہر آنکھ اشکبار


مستونگ(24نیوز) ہارون بلور اوراکرم درانی کے بعدبلوچستان عوامی پارٹی کے رہنماسراج رئیسانی کے قافلہ پر بھی دہشت گردوں کا حملہ، خودکش دھماکہ میں سراج رئیسانی سمیت 128 افراد شہیداور 180 زخمی ہوگئے۔
انتخابی مہم جوں جوں تیز ہوتی جارہی ہے ۔ دہشت گرد بھی اپنی کارروائیاں بڑھارہے ہیں ۔ جمعہ کو دہشت گردوں نے سراج رئیسانی کے انتخابی قافلہ کو مستونگ کے علاقہ درڑینگڑھ میں خود کش حملہ کا نشانہ بنایا ۔ڈپٹی کمشنر مستونگ کے مطابق سراج رئیسانی کو زخمی حالت میں کوئٹہ منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق خود کشں حملے میں 16 سے20 کلو گرام دھماکا خیز مواد استعمال ہوا۔

آرمی چیف کی مذمت  

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مستونگ دھماکے کی مذمت کی ۔ ان کا کہنا ہے کہ  پاکستان سراج رئیسانی جیسے مخلص اور قابل سیاستدان سے محروم ہوگیا ہے۔ ملک دشمن عناصر جمہوریت کمزور کرنے کی کوشش میں کامیاب نہیں ہونگے۔

ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کو پٹڑی سے اتارنے کی دشمن قوتوں کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی اور تمام پاکستانی متحد ہوکر دشمن قوتوں کو شکست دیں گے۔ 

برطانوی ہائی کمشنر کی مذمت

پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر تھامس ڈریوی نے کوئٹہ اور بنوں میں ہونے والے دھماکوں کی شدید مزمت کی ہے۔ برطانوی ہائی کمشنر نے حملوں کو بزدلانہ فعل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

عمران خان کی شدید مذمت

عمران خان نے اکرم درانی کے قافلے پر ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کی۔ انھون نے کہا کہ 25 جولائی کے انتخابات کو سبوتاثر کرنے کیلئے کسی کی سازش کا ڈول ڈولا جارہا ہے۔

سوگ کا اعلان 

سانحہ مستونگ پر بلوچستان میں سوگ منایا جا رہا ہے ۔ دو روز کے لیے اہم سرکاری عمارتوں پرقومی پرچم سرنگوں خودکش حملے میں جاں بحق سراج رئیسانی کی تدفین آج سہ پہرآبائی علاقےمیں ہوگی۔ بلوچستان عوامی پارٹی کا آج ہونیوالاانتخابی جلسہ بھی منسوخ کردیاگیا۔ 

فوٹیج موصول 

تونگ دھماکے کی فوٹیج ٹوئنٹی فور نیوز نے حاصل کر لی ۔  فوٹیج میں دھماکہ ہوتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے نوابزادہ میر سراج خان رئیسانی کی تقریر شروع ہوتے ہی دھماکا ہو جاتا ہے ۔ 

  سراج رئیسانی کون تھے؟ 

نوابزادہ سراج رئیسانی بلوچستان میں پاکستان سے والہانہ وابستگی رکھنے والے رہنماؤں میں سے تھے۔  اسی لیے بھارتی اشارے پر دہشت گردوں کے نشانے پر تھے ۔ اُن کے بیٹے کو بھی دوہزار گیارہ میں شہید کیا گیا تھا۔پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں بھارتی ہاتھ ہونا پرانی بات بھی ہے اور ثابت شدہ بھی ۔یہ تصویر دیکھیں   جس میں انھوں نے  بھارتی پرچم کو  پیروں تلے روندا ہوا ہے  اورنواب رئیسانی کا اُٹھا ہوا سر بلوچستان میں پا کستانی پر چم کی سربُلندی کی علامت ہے ۔

جبکہ  دوسری تصویر وہ جس میں انھوں نے فخرسے پاکستانی پرچم کو تھامے ہوئے ہے۔ صرف سراج رئیسانی نے ہی حُب الوطنی کی قیمت اپنے خون سے ادا نہیں کی بلکہ اُن سے بھی پہلے دوہزار گیا رہ میں اُن کے بیٹے نے مٹی کا قرض اپنے خون سے چُکایا تھا ۔ انہیں بھی دہشت گردوں نے چھُپ کر کیے گئے اپنے بُزدلانہ حملے میں شہید کیا تھا ۔ شہدائے پاکستان کو ہمارا سلام 

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔