ملک بھر میں عید کی تیاریاں عروج پر، بازاروں میں میلے کا سماں 

ملک بھر میں عید کی تیاریاں عروج پر، بازاروں میں میلے کا سماں 


24نیوز : ملک بھر میں عید کی تیاریاں عروج پر  ہیں کراچی سمیت ملک بھر  میں عید کی تیاریاں عروج پر ہیں نوجوان اور مرد حضرات بھی کرتوں کی خریداریوں میں مصروف ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ملک کے مختلف شہروں میں بچوں سے لے کر بڑوں تک ہر کوئی عید کی تیاریوں میں مصروف نظر آتا ہے۔پورے پاکستان کی طرح پھولنگر میں بھی لوگ عید کی تیاریوں میں مصروف ہیں جبکہ لوگوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی بہت زیادہ ہے چھوٹی چھوٹی خوشیاں بھی بہت مہنگی پڑ رہی ہیں۔

خواتین کی بڑی تعداد  نے بیوٹی پارلرز کا رخ کر لیا

خواتین نے بیوٹی پارلر کا رخ کر لیا ہے جہاں رش بڑھ گیا ہے۔

 

عید قریب آتے ہی خیر پور کے بازاروں میں بھی خریداروں کا رش بڑھ گیا ہے۔ چھوٹے، بڑے، مرد و خواتیں سب نے بازاروں کا رخ کر لیا ہے جبکہ مہنگائی نے عوام کی خریداری کو محدود کر دیا۔

 اور وادی سوات میں عید کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ بازاروں کی رونق میں اضافہ ہوگیا ہے۔ شہری رات دیر تک شاپنگ میں مصروف نظر آتے ہیں۔کاروباری حضرات کا کہنا ہے کہ رات میں موسم اچھا ہونے سے لوگ رات کو خریداری کیلئے آتے ہیں۔ اس سال کاروباربہتر ہے۔امن و امان کی فضا بہتر ہونے سےعیدالفطر کے خریداریوں میں خاطرخواہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مرد، عورتیں، بچے سبھی شاپنگ میں مصروف ہیں۔

پشاور بازاروں میں گہما گہمی

 ادھرملکہ کوہسار مری کے خوشگوار موسم میں عید کی شاپنگ عروج پرہے۔ دوکانوں میں لوگوں کا رش، گرمی کے ستائے سیاح مری کے خوبصورت موسم سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ شاپنگ میں مصروف ہیں۔ملکہ کوہسار مری میں رمضان کے آخری عشرے میں عید کی شاپنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ دوکانوں میں لوگوں کا رش ہر طرف میلے کا سماں ہے۔

دوسرے شہروں کی طرح پاکستان کے خوبصورت سیاحتی مقام مری میں بھی سیاحوں کے ساتھ مقامی لوگ عید کی شاپنگ کے لئے نکل پڑے ۔ مال روڈ میں بھی سیاحوں کا رش لگ گیا۔ عورتیں، بچے، جوان مال روڈ کی رونق بن گئے۔ کہیں عورتیں چوڑیاں خریدتی نظر آتیں ہیں اور کہیں بچے اپنی من پسند خریداری کرتی نظر آتی ہیں۔ شاہوں کی خریداری عورتوں کی من پسند شوق ہے۔

کچھ خواتیں مری میں عید کی شاپنگ کرتی نظر آتی ہیں۔ زیادہ تعداد سیاحوں کی راولپنڈی اسلام آباد کی مری میں موجود ہے جو گھنٹے کی مسافت سے مری پہنچ جاتے ہیں۔ عید کی شاپنگ کے ساتھ مری کے خوبصورت موسم سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔ جو گرمی کے ستائے مری کی ٹھنڈی ہوائیں اور بہار کے بکھرے رنگ اپنی یادوں کو یاد گار بنانے مری آتے ہیں۔

عید کی آمد آمد  ہو ایسے میں عطر اور پرفیوم کا استعمال نہ ہو یہ ہو ہی نہیں سکتا۔  شہری من پسند پرفیوم خریدنے میں مصروف نظر آئے۔خوشبو لگانا سنت ہے۔ اس لیے مردہر تہوار پر خوشبو لگانے کو اہمیت دیتے ہیں، روز مرہ اور نماز جمعہ کے لیے خوشبو لگانے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ عید کی تیاریوں میں اس کو نظر انداز کر دیا جائے ایسا ممکن نہیں یہی وجہ ہے کہ جہاں کپڑوں، جوتوں اور چوڑیوں کی دکانوں پررش ہے وہیں پرفیوم اور عطر کی دکانوں پر خوب گہما گہمی ہے۔

خوشبو کی دکانوں پر شیشے کی خوبصورت اور دیدہ زیب بوتلوں میں رکھے گئے عطر اور پرفیوم خریدنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کررہے ہیں۔ ان خوشبووں کا انتخاب لوگ اپنی ترجیحات کی بنا پر کرتے ہیں۔ عید کے سلسلے میں عطر اور پرفیوم خریدنےکے لیےدکانوں پر لوگوں کا رش لگا ہوا ہے۔ جسکی وجہ سے دکانداروں کی بھی چاندی ہو گئی ہے۔

میٹھی عید کی میٹھی خوشیاں ،دور جدید میں لوگ سویوں کے ساتھ ساتھ  کیک کاٹنا بھی پسند کرتے ہیں۔ عید الفطر جسے عرف عام میں میٹھی عید یا سویوں والی عید بھی کہا جاتا ہے مگر یہ میٹھی عید جس پر سویاں، کھیر اور شیر خرما گھروں میں بنتا ہے دور جدید کی نئی روایت سے خود کو دور نہ رکھ پائی پہلے عید کے دن کی شروعات جہاں پر سویوں سے کی جاتی تھی دور حاضر میں ایسے گھر بھی موجود ہیں جہاں عید کے دن کا آغاز کیک کاٹ کر کیا جاتا ہے اس وجہ سے آج کے روز شہر کی معروف بیکریوں پر خوب رش ہے۔

شہر کی بڑی اور چھوٹی بیکریز پر بھی خوب گہما گہمی ہے آخر کو عید پر کیک جو کاٹنا ہے تو اس مقصد کے لئے خریدار وں کو کیک اور اپنی بکری کی طرف مائل کرنے کے لئے بھی دوکانوں پر مختلف فلیور اور رنگ کے کیک تیار کر کے رکھے گئے ہیں جب کہ خریدار اپنی پسند کے کیک کا آرڈر عید سے پہلے ہی سے دینے لگے تھے۔ ان کیک کی قیمت 1200 روپے سے لیکر 2000 روپےتک ہے۔خوبصورت پھولوں،  ذائقہ دار چاکلیٹ اور مختلف رنگوں کے استعمال سے بناے گئے کیک مٹھی عید کو مزید میٹھا کرتے ہیں۔

 

شازیہ بشیر

   Shazia Bashir   Edito