چیئرمین سینیٹ انتخاب،راجہ کو ووٹ نہ دینے والے بے نقاب


اسلام آباد(24نیوز)سنیٹ الیکشن میں ن لیگ کی لنکا ڈھانے والے اپنے ہی نکلے، حکمران جماعت کے قائدین نے ووٹ نہ دینے والوں کا سراغ لگا لیا، رپورٹ نواز شریف کو پیش کر دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹ الیکشن میں مسلم لیگ ن سے ہاتھ ہوگیا ہے جو پانچ سال سے حکومت میں ہیں اور ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھاتے تھے وہی ان کے اقتدار کی کشتی میں سوراخ کرگئے ہیں، حکمران جماعت کو پکا یقین تھا کہ پارلیمنٹ میں ان کو اکثریت ملے ہی چیئرمین سینیٹ ان کا ہی ہوگا لیکن نتائج ان کی توقع کے بالکل خلاف آئے،نتیجہ دیکھتے ہی نواز شریف اور دیگر قائدین ہاتھ ملتے رہ گئے کہ کیا ہوگیا۔

ن لیگی قیادت بھی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ نہیں گئی بلکہ کھوج میں لگ گئی کہ کس نے دھوکہ دیا اور کیوں دیا،آخر کار ووٹ نہ دینے والوں کا سراغ لگا لیا،رپورٹ نواز شریف کو پیش کر دی گئی۔

چیف الیکشن کمشنر نے ارکان اسمبلی کو ان کی حیثیت بتادی

خیال رہے کہ سینیٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹرز کی تعداد 13 اور پیپلز پارٹی کے سینیٹرز کی تعداد 20 ہے اور انہیں بلوچستان سے منتخب ہونے والے 8 آزاد سینیٹرز کی حمایت بھی حاصل ہے،اگر فاٹا کے سینیٹرز بھی اپنی حمایت صادق سنجرانی کی جھولی میں ڈال دیتے ہیں تو اس طرح یہ تعداد 48 تک پہنچ جاتی ہے،اس صورت حال میں جماعت اسلامی اور اے این پی کے 3 سینیٹرز کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے کیونکہ ان دونوں جماعتوں کے سینیٹرز کی حمایت والا فریق چیئرمین سینیٹ کے لیے مطلوبہ تعداد حاصل کر سکے گا۔

واضح رہے پاکستان کے ایوان بالا میں تمام صوبوں کو برابری کی بنیاد پر نمائندگی حاصل ہے،کل 104سیٹیں ہیں،صوبوں کی 23،23،اسلام آباد کی چار اور فاٹا کی آٹھ نشستیں ہیں۔

مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق جے یو آئی ف نے حکومتی امیدوار کو ووٹ نہیں دیئے، اے این پی اور بی این پی مینگل بھی ووٹ نہ دینے والوں شامل ہیں،سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ ن لیگ کے امیدوار کو کس نے ووٹ نہیں دیا، یہ تو اسی کو معلوم ہوگا۔

نواز شریف اور ساتھی محفوظ،عمران خان پھنس گئے

جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے نواز شریف سے ملاقات کی، یہاں بھی چئیرمین اور ڈپٹی چئیرمین کے انتخاب کا معاملہ اٹھ کھڑا ہوا، نواز شریف نے فضل الرحمان سے حقیقت حال معلوم کرنے کی درخواست کر دی، فضل الرحمان نے نواز شریف کو تسلی دی کہ وہ اپنی جماعت کے ارکان سے بات کریں گے، ساتھ یہ مشورہ بھی دیا کہ نواز شریف اپنی پارٹی میں بھی کالی بھڑوں کو تلاش کریں۔

واضح رہے اگر یہ سینیٹرز راجہ ظفرالحق کو ووٹ دے دیتے تو وہ چیئرمین سینیٹ منتخب ہوسکتے تھے کیونکہ ان کے پاس اپنی نمبر گیم پوری تھی۔