چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں بچوں پر شدید تشدد کاانکشاف

چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں بچوں پر شدید تشدد کاانکشاف


لاہور(24نیوز) چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں بچوں کے ساتھ شدیدجسمانی اورنفسیاتی تشددکاانکشاف ہوا ہے۔ بچے، بچیوں کے ساتھ منیجرسمیت اسٹاف کا رویہ بھی شرمناک ہے۔بچوں نے 24 نیوزکےسامنے استحصال کا بھانڈا پھوڑ دیا۔

 جہاں چاہتے ہیں، وہاں مارتے ہیں ۔آنکھوں میں آنسولیےاپنےساتھ ہونیوالےتشددکی روداد سناتی چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں بچی جسےماں باپ کی لڑائی چائلڈپروٹیکشن بیوروکھینچ لائی۔ جہاں ان کیساتھ کس قدربہترین سلوک کیاجارہاہےان بچیوں نے خود ہی بتادیا۔

بےآسراکاآسرابننےوالےاس ادارےمیں بچوں سےنہ صرف جسمانی مشقت کروائی جاتی ہے بلکہ انکارپرواش روم میں بندکر دیاجاتاہے۔ادارےکی منیجرمس نازیہ، جسےبچوں کی ماں کادرجہ حاصل ہے۔وہ بھی بچوں پر ظلم ڈھاتی ہے۔ کروڑوں روپے کابجٹ رکھنےوالاادارے کے پاس بچوں کے کھانے کے لیے خشک نان اورسوکھی ٹکی ہے۔جسے ننھے بچوں کے لیے نگلنا بھی دشوار ہے ۔ چھوٹے بچوں کو کھانا کھلانے والی آیایں بھی غیر ذمہ داری سے ادھر ادھر خوشگپیوں میں مصروف ہیں  اور روٹی کا نوالا ہے کہ ٹوٹتا ہی نہیں۔

بچی بتاتی ہے کہ بیورو میں بچوں کو گوجرانوالہ بیورو میں بچوں کے ساتھ کیے جانے والے بہیمانہ تشدد کے حوالے دے کر نفسیاتی طور پر ہراساں کیا جا تا ہے ۔

بچی کی یہ باتیں ابھی جاری ہی تھیں کہ اچانک مینجر چاءلڈ بیورو مس نازیہ آن پہنچی اور ہمیں بچی سے بات کرنے پر دھمکانا شروع کر دیا۔

تشدد کیسا بھی ہو ، تشدد ہوتا ہے۔ جسمانی ، ذہنی یا جنسی، چالڈ پروٹیکشن بیورو کے بچوں پر کیا جانیوالہ یہ تشدد بند دروازوں کے پیچھے ابھی بھی جاری ہے۔ یہ خبربے نقاب کرنےکےبعدچائلڈپروٹیکشن کی نام نہاد مینجر، لیڈرزکی طرف سے بچوں کو مزیدتشددکانشانہ بنانےکاخطرہ بھی ہے۔مگر حکام بال سے ایک سوال یہ بھی ہے کہ اس اہم ادارے میں تربیت یافتہ عملہ تعینات کرنے کی بجاءے سارشی بھرتیاں کیوں کی گئیں۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔