چیف جسٹس نے نابینا لڑکی کی زندگی سنوار دی


لاہور( 24نیوز ) سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں نابینا لڑکی کو مقابلے کا امتحان پاس کرنے کے باوجود نوکری نہ دینے پر کیس کی سماعت کی۔ مقدمے کی سماعت کے دوران دونوں طرف سے وکلاءنے دلائل دئیے، چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثارکے روبرو نابینا لڑکی حجاب بھی پیش ہوئی جس نے درخواست دائر کررکھی تھی۔
درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ پبلک سروس کمیشن کامقابلے کا امتحان پاس کیا لیکن انٹرویو میں فیل کر دیاگیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ درخواست گزار ایک نابینا لڑکی نے تحریری امتحان پاس کیا تو اسے رکھ لیتے، تحریری امتحان کے 100 نمبر کے بعد انٹرویو کے 100 نمبر کیسے رکھ سکتے ہیں، انٹرویو کے اتنے نمبر اس لیے رکھے جاتے ہیں تاکہ اپنے لوگوں رکھ سکیں۔ نابینا لڑکی نے امتحان پاس کیا اس لئے وہ اب اس کو نوکری دیناذمہ داری ہے۔
چیف جسٹس نے کہا ہ دوسرے نابینا افراد کے ہمراہ درخواست گزار نے امتحان پاس کیا،سیکرٹری پبلک سروس کمیشن ایک نابینا کو سول جج بنوایا،کسی کو نابینا ہونے کی بناء پر اسے ملازمت کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا، چیف جسٹس پاکستان نے سیکرٹری پبلک سروس کمیشن کو لڑکی کو ملازمت دینے بارے اقدامات کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پٹرول پمپ فروخت،ملازمین کوتنخواہ نہ ملنے کیخلاف کیسوںکی سماعت بھی کی، چیف جسٹس پاکستان نے رپورٹ عدالت پیش کرنے کا حکم دے دیا ،عدالت نے تمام ملازمین کی لسٹ مرتب کرنے کا حکم دے دیا ، چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ کسی کی ایک دن، ایک مہینے ،ایک گھنٹے کی تنخواہ بھی نہیں روکے گی۔
انہوں نے پٹرول پمپس ملازمین کی درخواست پر سماعت کی ،درخواست گزار کا کہنا تھا کہ پیٹرول پمپس کی فروخت نہ ہونے کے باعث بے روزگار ہوگئے ، عدالت نے ریمارکس دئیے کہ آپ کی روزی روٹی کا کوئی بندوبست کرتے ہیں، پٹرول پمپ کی نیلامی کی تاریخ سے آگاہ کیا جائے، استدعا حکم واپس لے لیا تو آپ سے زیادہ فائدہ مالکان کو ہو گا، پٹرول پمپ سیل کرتے وقت ملازمین کو بھی مدنظر رکھا جائے گا، عدالت کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہو گی۔