شجاع آباد: معاز ہسپتال میں لیب ٹیکنیشن نے آپریشن کر کے آنتیں کاٹ دیں

شجاع آباد: معاز ہسپتال میں لیب ٹیکنیشن نے آپریشن کر کے آنتیں کاٹ دیں


شجاع آباد(24نیوز) عطائی سرگرم موت کے گھر کھول دیئے معاز ہسپتال میں لیب ٹیکنیشن نے آپریشن کر کے آنتیں کاٹ دیں خاتون کو موت کے منہ میں پہنچادیا عورت تشویناک حالت میں وکٹوریہ ہسپتال منتقل دوبارہ آپریشن کرنے اور 40بوتلیں خون کی لگنے کے باوجود خاتون کی حالت جوں کی توں ڈاکٹرز نے جواب دے دیا عطائی کو گرفتار کر کے اس کے خلاف کاروائی کی جائے ورثہ کا احتجاج۔

تفصیلات کے مطابق کیول والی پل کے رہائشی محمد اعجاز اپنی بیوی شمشاد کو درد کی صورت میں معاذ ہسپتال لے گیا جہاں پر موجود عطائی مجید نے شمشاد کا الٹرا ساونڈ کرنے کے بعد اعجاز کو کہا کہ نارمل ڈیلوری ہو جائے گی اعجاز نے ڈیلوری کرنے کی رضامندی پر شمشاد کو معاذ ہسپتال میں داخل کر کے نارمل ڈیلوری کو کوششیں شروع کر دیں تین گھنٹے کے ٹرائل کے بعد مجید نے کہا کہ اس کا فورا آپریشن ہوگا ورنہ مریض کی حالت خراب ہوجائے گی اور بچہ نہیں بچ پائے گا۔

یہ بھی پڑھیں۔پنجاب کے مزید 11 ہسپتالوں میں سہولیات کا فقدان
 

 آپریشن کی اجازت دیئے بغیر اتائی مجید نے شمشاد کوآپریشن تھیٹر منتقل کر کے عطائی مجید نے 4گھنٹے آپریشن جاری رکھا دوران آپریشن آنتیں کاٹ دیں چار گھنٹے میں آپریشن کو تو مکمل کر لیا گیا مگر 2دن تک مریض ہوش میں نہ آسکا مریض کا پیٹ ہاتھ اور منہ سوج گئے مریض کو 4خون کی بوتلیں لگانے کے بعد بھی شمشاد کی حالت نہ سنبھل سکی۔

 7دن معاذ ہسپتال میں عطائی نے مریض کا علاج کیا مگر حالت نہ سنبھلنے پر وکٹوریہ ہسپتال منتقل کر دیا 7دن میں 25000ہزار بل وصول کیا گیا۔

وکٹوریہ ہسپتال کے ڈاکٹروں نے مریض کی حالت دیکھتے ہی ورثہ سے پوچھا کہ اس کا کس جاہل نے آپریشن کیا ہے اس کی آنتیں کاٹ دی ہیں جسکی وجہ سے پیٹ میں بلیڈنگ ہے خون جمع ہو گیا ہےاور گردے بھی فیل ہوچکے ہیں آپریشن ٹھیک نہیں کیاہے اس کا دوبارہ آپریشن کرنا پڑے گا۔ وکٹوریہ ہسپتال کے ڈاکٹروں نے 20عدد خون کی بوتلیں شمشاد کو لگانے کے بعد اس کا دوبارہ آپریشن کیا پیٹ کے اندر 6عدد نالیاں لگائیں گئیں۔

25دن موت اور زندگی کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے باوجود شمشاد کی حالت نہ سنبھل پائی ڈاکٹرز کے مطابق اس کا ایک اور آپریشن ہوگا اور کوئی گرنٹی نہیں کہ مریض بچ سکے گا ڈاکٹرز کے جواب دینے پر اعجاز شمشاد کوگھر لے آیا ہے شمشاد اپنے گھر میں زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے۔

 کیونکہ اعجاز غریب ہے اور مزید اخراجات نہیں ہیں اسکے پاس چار بچوں کی ماں شمشاد کو ان پڑھ اتائی مجید نے چند پیسوں کی لالچ میں آکر آپریشن کر کے موت کے منہ میں پہنچا دیا کہ مجید 15 سال سے بلڈ ٹیکنیشن سول ہسپتال میں تعنات ہے مجید نے معاذ ہسپتال کے نام سے موت کا گھر کھول رکھا ہے اس ہسپتال کے بورڈ پر 3ڈاکٹرز کے فرضی نام لکھا کر بھولی بھالی عوام کو بے وقوف بناکر شہریوں کی زنگیوں سے کھیل رہا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اس ماہ میں عطائی مجید کافی آپریشن کر کے خواتین کو موت کے منہ میں پہنچا چکا ہے شہریوں نے اعلی حکام سے نوٹس لینے اور شہر میں اس قسم کے کھلے موت کے گھروں کو بند کیا جائے اور ورثہ نے احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں انصاف فراہم کیا جائے۔

 عطائی مجید کو گرفتار کر کے واقع قرار سزا دی جائے ورثہ کا کہنا تھا کہ ہم کو انصاف نہ ملا تو احتجاج کے دائرہ کار کو بڑھاتے ہوئے پنجاب ہیلتھ کیئر کے دفتر کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔