الیکشن 2018، کراچی میں بڑے تصادم کا خدشہ

الیکشن 2018، کراچی میں بڑے تصادم کا خدشہ


کراچی ( 24 نیوز ) کراچی میں ایم کیوایم پاکستان کے دھڑے بندیوں کے بعد شہر میں عام انتخابات کے دوران تصادم کا خدشہ ہے۔ کراچی کی سیاست میں سب جماعتوں پر سبقت لے جانے والی ایم کیوایم اب 2013 جیسی نہیں رہی، ووٹرز بھی شش و پنج میں مبتلا ہیں کہ ووٹ کس کو دیں۔

24 نیوز ذرائع کے مطابق عام انتخابات دو ہزار اٹھارہ، کراچی میں قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر براجمان ہونے کے لئے ہونگیں کھینچا تانی، کراچی کی سیاست میں سب جماعتوں پر سبقت لے جانے والی ایم کیوایم اب 2013 جیسی نہیں رہی، اس کے کئی ٹکڑے ہوچکے ہیں۔ ووٹرز بھی شش و پنج میں مبتلا ہیں کہ ووٹ کس کو دیں۔

یہ خبر بھی پڑھیں: آہ! چودھری نثار ن لیگ سے رخصت ہوگئے: سعد رفیق

 قومی اسمبلی کی نشستوں کی بات کی جائے تو این اے 240 میں ایم کیوایم حقیقی کے سربراہ آٖفاق احمد کا پی ایس پی اور ایم کیوایم پاکستان کے نمائندوں سے مقابلہ ہوگا، این اے دو سو تینتالیس، جہاں سے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان اپنی قسمت آزمائیں گے، اور ان کے مدِ مقابل ہونگے ایم کیوایم اور پی ایس پی کے نمائندگان، این اے 250 252،256 کے انتخابات میں ایم کیوایم اور پی ایس پی میں کانٹے کا مقابلہ ہوسکتا ہے۔

پڑھنا مت بھولئے:  الیکشن کمیشن: ریٹرننگ افسران کو ملنے والی رپورٹس میں 200 سے زائد امیدوار کلیئر

دوسری جانب این اے 249 بلیہ ٹاون ایم کیوایم پی ایس پی کو للکارتے ہوئے شہباز شریف میدانِ انتخابات میں پنجا آزمائی کریں گے۔ جہاں ان حلقوں میں پیپلز پارٹی ایم کیوایم، پی ایس پی، پی ٹی ائی ،اور اے این پی کے امیدوار انتخابات میں حصہ لینگے۔ ان حلقوں میں تصادم کا بھی خدشہ پایا جاتا ہے۔