جنسی ہراسانی، خاتون ریسکیور نے انصاف کیلئے چیف جسٹس کا دروازہ کھٹکھٹا دیا

جنسی ہراسانی، خاتون ریسکیور نے انصاف کیلئے چیف جسٹس کا دروازہ کھٹکھٹا دیا


لاہور (24 نیوز) جنسی ہراساں کرنے کی ایسی ہوا چلی ہے کہ ہر طرف ایک ہی شور ہے، فلاں نے فلاں کو جنسی ہراساں کیا ہے اور فلاں نے فلاں کی عزت پر ہاتھ ڈالا ہے۔

ریسکیو 1122 کی خاتون اہلکار نے بھی ہمت کر کے آواز اٹھائی اور اپنی عزت کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں کو بے نقاب کرنے کی ٹھان لی۔ جب صائمہ جاوید نے مجرموں کے چہروں پر لگی سیاہی کے بارے میں افسران بالا کو آگاہ کیا تو انھوں نے بھی آ گے سے کوئی خاطر خواہ جواب نہ دیا۔

یہ بھی پڑھیں: بیوی سے دلبرداشتہ باپ نے تین معصوم بچوں کو قتل کر کے خود کشی کر لی 

جنسی ہراسانی کی شکار خاتون ریسکیور نے بالآ چیف جسٹس آف پاکستان کا دروازہ کھٹکھٹا دیا۔ صائمہ جاوید نے انصاف کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان کودرخواست دے دی جس میں انھوں نے الزام لگایا ہے کہ پی آر او جام سجاد اور دیگر افسروں نے جنسی طور پر ہراساں کیا۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مسائل منظر عام پر لانے پر ڈاکٹر علی امام انتقام کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ہیڈ آف سکیورٹی عامر بلوچ اور ہیڈ آف ایڈمنسٹریشن علی حسن بھی ملوث ہیں۔

پڑھنا نہ بھولیں: 34 لاکھ کا خرچہ، چیف جسٹس نے پی آئی اے کو مارخور کی تصویر سے روکدیا 

محکمہ کی جانب سے افسران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔صائمہ جاوید نے دہائی دی ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان نوٹس لے کر انصاف فراہم کریں۔