شاہ محمود قریشی کی افغان ہم منصب،صدر غنی سے ملاقات


اسلام آباد( 24نیوز )وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور افغان صدر اشرف غنی کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی جو تقریباً 45 منٹ تک جاری رہے'ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور افغانستان میں امن سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، اس موقع پر افغان صدر نے شاہ محمود قریشی کو وزیر خارجہ کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد بھی دی۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان افغان صدر اشرف غنی کی سربراہی میں وفود کی سطح پر مذاکرات بھی ہوئے جس کا دورانیہ 45 منٹ مقرر تھا تاہم یہ مذاکرات تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہے جس میں پاکستانی وفد کی نمائندگی شاہ محمود قریشی نے کی۔مذاکرات میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تمام باتوں پر مثبت انداز میں تفصیلاً بات چیت کی گئی جس میں دو طرفہ تجارتی امور، افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کا کردا،ر بارڈر مینجمنٹ اور جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے کی بندش سمیت دیگر اہم امور پر بات کی گئی۔

اس کے علاوہ امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو کے حالیہ دورہ پاکستان پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ذرائع کا کہنا ہےکہ مذاکرات میں دونوں جانب سے مزید ملاقاتوں اور مذاکرات کا عندیہ دیا گیا ہے۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے افغان ہم منصب صلاح الدین ربانی سے بھی ملاقات کی جس دوران گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود نے کہا کہ ہمارے چیلنجز ایک جیسے ہیں جن سے باہمی تعاون سے ہی نمٹنا ہے، افغانستان میں ورکنگ گروپ پر زیادہ کام کرنے اور آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔افغان وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے بھی امن اتناہی ضروری ہے جتنا افغانستان کے لیے ہے۔ملاقات کے موقع پر شاہ محمود نے دو طرفہ معاملات کے حل کے لیے دونوں اطراف سے علمائے کرام کی میٹنگ کی تجویز دی۔

وزیر خارجہ پہلے غیر ملکی دورے پر کابل پہنچ گئے

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی منصب سنبھالنے کے بعد ایک روزہ دورے پر افغانستان کے دارالحکومت کابل پہنچ گئے۔
ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کے مطابق وزیر خارجہ کا کابل کا پہلا دورہ کرنا پاکستان کی افغانستان اور علاقائی امن کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور کامیاب دورے سے مستقبل میں امن مذاکرات اور باہمی تعلقات میں مزید پیش رفت ہوگی۔


ذرائع کے مطابق دورے کے دوران افغان وزارت خارجہ میں پاکستانی اور افغان حکام کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوں گے جبکہ دوطرفہ تجارتی امور اور افغانستان - پاکستان ایکشن پلان فارپیس اینڈ سٹیبلیٹی پر بھی بات ہوگی،مذاکرات میں جلال آباد قونصل خانے کی بندش کا معاملہ بھی زیرغور لایا جائے گا جبکہ خطے سے دہشت گردی کے خاتمے اور افغان مسئلے کے مستقل حل پر بات چیت ہوگی۔
ذرائع نے بتایا کہ مذاکرات میں سرحد پار دہشت گردی اور بارڈر مینجمنٹ پر بھی بات چیت کی جائے گی،دورے کے دوران وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سے بھی ملاقات کریں گے جبکہ وزیر خارجہ کی افغان صدر اشرف غنی سے بھی ملاقات طے ہے۔
وزیرخارجہ نے حلف کے بعد سب سے پہلے افغانستان کا دورہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا،افغان وزیرخارجہ صلاح الدین ربانی کی جانب سے بھی پاکستانی ہم منصب کو دورے کی دعوت دی گئی تھی۔
یاد رہے سب سے پہلے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف پاکستان آئے،اس کے بعد امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے دورہ پاکستان کیا،ان کے دورے کے فوری بعد چینی وزیر خارجہ ای وانگ تشریف لائے،گزشتہ روز ترک وزیر خارجہ چاﺅش اوگلو نے اسلام آباد کا دورہ کیا تھا۔