بھارت نے کشمیر کو قتل گاہ بنادیا،مزید 4نوجوان شہید

بھارت نے کشمیر کو قتل گاہ بنادیا،مزید 4نوجوان شہید


سرینگر( 24نیوز )بھارتی مظالم کم نہ ہوئے،کلگام میں بھارتی فورسز نے مزیدچارکشمیریوں کوشہیدکردیا،اڑتالیس گھنٹوں میں تعداد بارہ ہوگئی،امریکی میڈیا نے بھی بھارت کے چہرے سے نقاب اتاردیا۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے سفاکی،ظلم اور بربریت کی تمام حدیں پار کر دی ہیں ، نام نہاد آپریشن کے نام پر بھارتی فوجیوں نے مزید چار کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا ہے، یوں صرف اڑتالیس گھنٹوں کے درمیان مقبوضہ وادی میں شہادتوں کی تعداد بارہ ہو چکی ہے۔دوسری طرف تازہ ترین امریکی رپورٹ نے بھارت کی نام نہاد سیکولر تشہیر کا پول بھی کھول دیا ہے ،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی سیکولرحیثیت ختم ہو رہی ہے اور ہندو ازم کو فروغ مل رہا ہے۔
یاد رہے پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم عمران خان نے جب وکٹری سپیچ کی تو خطے میں سب کو امن اور محبت کی تلقین کرتے ہوئے ہمسائے بھارت کے ساتھ بھی متنازعہ مسائل بات چیت سے حل کرنے کا عندیہ تھا،اسی تقریر کے تسلسل میں انہوں نے بھارت کے اپنے دوستوں کو تقریب حلف برداری میں بھی بلایا۔
یہ حقیقت ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل سے خطے کے بہت سارے مسائل خود بخودسدھر جائینگے،خطے کا امن کشمیر کے امن سے وابستہ ہے،کیونکہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت تین ایٹمی طاقتوں، چین پاکستان اور بھارت کیلئے اہم ہے،اسی فوجی،سیاسی اہمیت کے پیش نظر بھارت کشمیر پر سے قبضہ چھوڑنے پر تیار نہیں، بھارت کیلئے ساٹھ کی دہائی سے پہلے کشمیر کبھی اٹوٹ انگ نہیں رہا بلکہ خود اس کو متنازعہ سمجھ کر عالمی فورم پر لے آیا اور اسی فورم کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو رائے شماری کا وعدہ کیا،جوں جوں کشمیریوں کی آزادی کا سفر طویل ہوتا گیا بھارت بھی اپنے وعدے سے ہوتا گیا ایسا دور ہوا کہ کشمیر کو آہستہ آہستہ اٹوٹ انگ قرار دینا شروع کردیا۔
کشمیر اس وقت پاکستان اور بھارت کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا ہے،دونوں اس کو چھوڑنے پر تیار نہیں ہے، بھارت کہتا ہے کہ پہلے دہشتگردی اور دوسرے مسائل بارے بات کرو اس کے بعد کشمیرکا معاملہ دیکھا جائیگا، کشمیر کو وہ متنازعہ علاقہ تسلیم ہی نہیں کرتا،حالانکہ بھارتی حکومت 1948 میں خود اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھاکر کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلے کو حل کرنے کا وعدہ کرچکی ہے،اقوام متحدہ کی قرارداد کے بعد بھارتی اٹوٹ انگ کے دعوے کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔ بھارت کشمیر میں جاری جدوجہد آزادی کی کوششوں کو بھی دہشتگردی کے کھاتے میں ڈالتا ہے۔
اگر پاکستان کی کشمیر اور خطے میں امن کوششوں کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان نے ہر دور میں امن کیلئے پہل کی ہے۔ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو دنیا کے ہر فورم پر اٹھایا ہے،سارک سے لے کر اقوام متحدہ تک اس مسئلے کو لے کر گیا ہے، پاکستان کی اس حوالے سے پالیسی مسقل رہی ہے لیکن حل کرنے کے فارمولے تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ ساٹھ کی دہائی میں صدر مملکت ایوب خان نے اس مسئلے کو حل کروانے کیلئے امریکی صدر جان ایف کینڈی سے بھی مدد مانگی۔صدر ایوب کے بعد شہید ذوالفقار علی بھٹو بھی اس مسئلے کو حل کرنے میں پیش پیش رہے،او آئی سی کا وجود عمل میں آیا تو اس کے اجلاس میں بھی قراداد لائی گئی،جنرل ضیاءالحق اور پیپلز پارٹی کے دوسرے دور حکومت میں بھی مسئلے کے حل کیلئے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔


کارگل میں پاک بھارت جنگ اور نائن الیون کے واقعہ کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی لیکن کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی سیاسی حمایت میں کوئی کمی نہ آئی،جولائی 2001ءمیں پاکستانی صدر پرویز مشرف نے بھارت کا دورہ کیا اور آگرہ میں اپنا چار نکاتی فارمولا پیش کیا۔مشرف فارمولا میں کہا گیا کہ کشمیر کو ایک منازعہ علاقہ قرار دے کر اس پر مذاکرات کا آغاز کیا جائے،غیر عملی حل کو چھوڑ دیا جائے اور اصلی حل کی جانب بڑھا جائے۔ بھارت اس وقت بھی اعلامیہ پر دستخط کرنے سے مکر گیا۔پھر 2006ءمیں جنرل پرویز مشرف نے ایک اور چار نکاتی حل پیش کیا جس میں کہا گیا کہ علاقے کو غیر فوجی علاقہ قرار دیکر مقامی حکومت بنائی جائے،کوئی نئی حد بندی نہ کی جائے ، پاکستان اور بھارت کی باہمی انتظامیہ مقرر کی جائے۔ بھارت اس حل کی طر ف بھی نہ آیا۔