جمہوریت اور انسانی تاریخ

جمہوریت اور انسانی تاریخ


اسلام آباد(24نیوز) جمہوریت انسانی تاریخ کاسب سے بہترین نظام سمجھاجاتاہے۔دنیابھرکی طرح پاکستان میں بھی آج جمہوریت کی سربلندی کادن منایاجارہاہے۔

جمہوری نظام سب سے اچھا طرز حکومت سمجھا جاتا ہے، جمہوریت میں عوام ہی کسی نمائندے کو  اپنا سربراہ کے طور پر منتخب کرتی ہے اور عوام ہی اس کی حکومت کو گراتی ہے ، ابراہم لنکن نے جمہوریت کو بہت خوبصورت الفاظ میں باندھا ہے ، ان کے مطابق جمہوریت   ’’عوام کی حکومت، عوام کے ذریعہ، اور عوام کے فائدے کے لیے‘‘ ہوتی ہے۔

جمہوریت ایک ایسا سیاسی نظام ہے جس میں عوام کو گنا جاتا ہے نہ کہ انسان کی قابلیت کو جانچا جاتا ہے جیسا کہ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے: 

جمہورت ایسا طرز عمل ہے کہ جس میں

بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

تاریخی پسِ منظر: 

انسان ہمیشہ ایسے نظام کی تلاش میں رہا ہے جس میں فرد کے حقوق و فرائض کا تعین منصفانہ طور پر ہو ں ۔  پتھر کے زمانے میں انسان نے خود کو قبائلی طور پر منظم کیا جہاں فرد کے حقوق کا ضامن قبیلے کا سردار ہوتا تھا،  قبائلی سماج کے بعد زرعی معاشرے کا عہد آیا جس نے جاگیرداری اور بادشاہت جیسے نظاموں کو جنم دیا۔ انسان نے مزید ترقی کی اور ایجادات کا عہد شروع ہوا۔ صدیوں کا سفر برسوں میں طے ہوا، کارخانوں اور فیکٹریوں نے معاشرتی رہن سہن مکمل طور پر تبدیل کردیا۔

افراد جو زمین سے بندھے ہوئے تھے آزاد ہو گئے،  اس آزادی نے عوامی شعور کو جنم دیا، عوام کے حقوق کی بات ہونے لگی،  بادشاہی نظام کے خلاف آوازیں اٹھنے لگیں اور پھر بتدریج دنیا سے بادشاہتیں ختم ہونے لگیں اوراس کی جگہ جمہوری نظام نے لے لی جس میں عوام کے نمائندوں پر مشتمل پارلیمنٹ عوامی حقوق کا تحفظ کرتی ہے۔  آج دنیا کے بیشتر ممالک میں جمہوریت ہے، انسانی ارتقا کو دیکھا جائے تو یہ عوام کے حقوق کے تحفظ کے لئے اب تک کا سب سے بہترین نظام ہے۔

پاکستان کا جمہوری نظام: 

آج پوری دنیا میں جمہوریت کا عالمی دن منایا جارہا ہے، پاکستان کا قیام جمہوریت کے ذریعے ہی ہوا مگر بدقسمتی سےپاکستان میں جمہوریت اُس طرح سے مظبوط نہ ہوسکی جیسا کہ بھارت میں رہی ۔  پاکستان کے پہلے دس سال 1947سے 1958تک محلاتی سازشوں کے سال رہے، ان دس برسوں میں سات وزیراعظم بنے ۔ غلام محمد اور سکندر مرزااقتدار کا مرکز رہے ۔

1956 میں آئین بنا،  الیکشن کا اعلان ہوا مگر ایوب خان نے مُلک کا پہلا مارشل لا نافذکردیا ،جس نے مشرقی اور مغربی پاکستان میں سیا سی اور جمہوری رشتہ توڑدیا۔ ایوب خان کے بعد یحیٰ خان نے اقتدار سنبھالا ۔ حالا ت اتنے بگڑے کہ مشرقی پاکستان مغربی پاکستان سے علیحدہ ہوگیا  جس کے بعدذولفقار علی بھٹو نے مُلک کو سنبھالا مگر1977میں ضیااُلحق نے جمہوریت پر شب خون مارا ، کُچھ عرصہ جمہوریت رہی اور پھر جنرل مشرف نے اقتدار پر قبضہ کرلیا ۔

  پاکستان میں آج جو جمہوریت ہے اس میں اُن ہزاروں سیا سی کارکنوں کا لہوشامل ہے جوجمہوری جدوجہد میں مارے گئے  اور برسوں زندانوں میں اسیر رہے۔ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح ، حبیب جالب ، فیض احمد فیض ، احمد فراز ، نوابزادہ نصراللہ ،ولی خان ،غوث بخش بزنجو، بیگم نسیم ولی خان نوازشریف ، بیگم کلثوم نواز ،ذولفقار علی بھٹو نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو وہ نمایاں نام اور اورآوازیں ہیں  جو پاکستانی جمہوریت کا چہرہ ہیں۔

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔