اگر سپریم کورٹ کی عمارت بھی غیرقانونی ہے تو گرا دی جائے: چیف جسٹس


اسلام آباد(24نیوز) غیر قانونی شادی ہالز سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس کا شادی ہال کے مالک جمیل عباسی سے دلچسپ مکالمہ بھی ہوا۔ عدالت نے راول ڈیم کے قریب غیرقانونی شادی ہالز کے معاملے پر اٹارنی جنرل کو طلب کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار پر مشتمل تین رکنی بنچ نے غیرقانونی شادی ہال کیس کی سماعت کی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ راول ڈیم کے قریب غیرقانونی شادی ہالز کو نوٹس جاری کردئیے ہیں۔ بارہ شادی ہالز ایسے ہیں جنھیں گرایا نہیں جاسکتا۔ شادی ہال کے مالک جمیل عباسی نے موقف اپنایا کہ ان کا شادی لان غیر قانونی نہیں۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس میں کہا معلوم نہیں اٹارنی جنرل"عباسی" کہہ کیا بتانا چاہتے ہیں.

یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر دو بار فائرنگ
چیف جسٹس نے جمیل عباسی میں دلچسپ مکالمہ بھی ہوا۔ چیف جسٹس نے جمیل عباسی سے کہا ایک اور تحریک آنے والی ہے اس کیلئے بھی تیار رہیں۔ جمیل عباسی نے کہا کہ وہ عدلیہ کیساتھ ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ان کا نہیں سسٹم کا ساتھ  دیں۔چیف جسٹس نے چک شہزاد کی اراضی لیز پر دینے والوں کو نوٹس جاری کرکے طلب کرنے کی ہدایت کی۔ سی ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ فارم ہاؤسز میں بااثرلوگ رہتے ہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وہ کون سے بااثر لوگ ہیں۔ چک شہزاد فارم ہاوسز غریب لوگوں کو دیں تا کہ وہ سبزیاں اگائیں۔چیف جسٹس نےکہا چیئرمین سی ڈی اے سیر کرنے نائجیریا گئے ہیں انھیں واپس بلایا جائے۔

غیر قانونی شادی ہالز کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے یہ ریمارکس بھی دیئے کہ اگر سپریم کورٹ کی عمارت غیر قانونی ہے تو اس کو بھی گرا دیا جائے۔