ہوشیار! کہیں آپ یہ غلطی تو نہیں کر رہے، ڈیٹا محفوظ چاہتے ہیں تو ۔۔۔

ہوشیار! کہیں آپ یہ غلطی تو نہیں کر رہے، ڈیٹا محفوظ چاہتے ہیں تو ۔۔۔


 ( 24 نیوز ) کچھ لوگ اپنا پاس ورڈ 123456 یا پھر آئی لو یو رکھ کر سمجھتے ہیں کہ بڑا معرکہ سر کر لیا ہے لیکن انھیں اندازہ نہیں ہوتا کہ ایسا کرنا کتنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

اگرآپ کےای میل یافیس بک کاپاس ورڈآسان ہےتوکسی بھی نقصان کےلیےتیاررہیں۔  کیوںکہ کمزور اور آسان پاس ورڈ رکھنے کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی نہ کوئی اس کا اندازہ لگا کر اپ کے ای میل یا فیس بک اکاؤنٹ میں گھس جاتا ہے اور نہ صرف پرائیویٹ معلومات چوری ہو جاتی ہیں بلکہ آپ دوبارہ اپنا اکاؤنٹ کھولنے کے قابل بھی نہیں رہتے۔

بہت سے لوگ ایک سےچھ تک کےہندسے یاپھراپنےپیاروں کےنام کےپاس ورڈرکھ لیتےہیں یہی نہیں بعض خطروں کےکھلاڑی تولفظ پاس ورڈکوہی اپنےاکاؤنٹ کی کنجی بناڈالتےہیں۔ ایسےپاس ورڈتوڑنانہ صرف ہیکرزکےلیے بائیں ہاتھ کاکھیل ہوتاہے بلکہ کوئی عام انسان بھی آپ کی خفیہ معلومات تک باآسانی رسائی حاصل کرسکتاہے۔ آئی ٹی ماہرین کاکہناہے کہ کبھی بھی صرف اعداد پر مشتمل پاس ورڈ نہ رکھیں چاہے یہ آپ کو کتنا ہی مشکل کیوں نہ لگ رہا ہو۔

بہتر طریقہ یہ ہے کہ نمبروں اور الفاظ کو ملا کر پاس ورڈ بنائیں اور اپنے پسندیدہ کھیل، ملک یا بچوں کے ناموں کو پاس ورڈ کے طور پر ہرگز استعمال نہ کریں کیونکہ یہ بھی باآسانی چوری ہو جاتے ہیں۔انٹرنیٹ سیکیورٹی ماہرین کےمطابق محفوظ پاسورڈ میں کم از کم بارہ حروف موجود ہونے چاہئیں۔ اس میں بڑے اور چھوٹے الفاظ کا استعمال کرنا ضروری ہے۔

Malik Sultan Awan

Content Writer