کلبھوشن یادیو کیس، بھارت پاکستان کےاہم سوالوں کےجواب دینے میں ناکام

کلبھوشن یادیو کیس، بھارت پاکستان کےاہم سوالوں کےجواب دینے میں ناکام


اسلام آباد (24 نیوز) پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں رنگےہاتھوں پکڑےجانےوالےبھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سےمتعلق عالمی عدالت میں بھارتی اپیل کی آخری سماعت پیرسےشروع ہورہی ہے، جس کیلئےپاکستانی وفدہالینڈ پہنچ چکاہے۔ بھارت کلبھوشن یادیو سے متعلق پاکستان کےاہم سوالوں کے جواب دینے میں اب تک ناکام رہاہے۔

بھارتی جاسوس ،حاضر سروس نیوی کمانڈر کلبھوشن یادیو، بھارت اپنے جاسوس کے اغوا کا دعویٰ ثابت نہ کر سکا۔ بھارت پاکستان کےاہم سوالوں کے جواب دینے میں ناکام ہوگیا۔  کلبھوشن بھارتی بحریہ سے کب ریٹائر ہوا ؟ بھارتی حکام تاریخ تک نہ بتا پائے۔  کمانڈرکلبھوشن یادیونے صرف 47 سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ کیوں لی؟

کلبھوشن کو مسلمان کے نام سے اصل بھارتی پاسپورٹ کیسے جاری ہوا؟بھارت عالمی عدالت انصاف میں کمانڈر یادیو کیس 14 ماہ بعد کیوں لے کر گیا؟پاکستان نے سوال ہے کیا سفارتی رسائی کے 2008 معاہدے کا اطلاق قومی سلامتی کے متعلق امورپرہوتاہے؟ پاکستان کمانڈر کلبھوشن یادیو سے متعلق بھارت کے تمام دعوے مسترد کرچکاہے،، کلبھوشن یادیوکو مارچ 2016 میں بلوچستان سے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا،، کلبھوشن یادیوپر جاسوسی اور دہشت گردی کے الزامات ہیں۔

فوجی عدالت میں کلبھوشن یادیو نے اپنے جرائم کا اعتراف کیا۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن کو فوجی عدالت سےسزائےموت سنائی گئی۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 10 اپریل 2017 کو سزائے موت کی توثیق کی، کلبھوشن یادیونے 22 جون 2017 کو سزائے موت کے خلاف آرمی چیف سے رحم کی اپیل کی۔ رحم کی اپیل میں کلبھوشن یادیونے را کا ایجنٹ ہونے کا اعتراف کیا۔ پیرسےعالمی عدالت میں کیس کی آخری سماعت ہو گی۔

Malik Sultan Awan

Content Writer