پرویز رشید اورچودھری نثار پھر آمنے سامنے،ایک دوسرے پر تنقید

پرویز رشید اورچودھری نثار پھر آمنے سامنے،ایک دوسرے پر تنقید


اسلام آباد (24نیوز)مسلم لیگ ن کے قائدین کے دمیان اختلافات شدت اختیار کرتے جارہے ہیں،سب سے بڑا اختلاف سینیٹر پرویز رشید اور سابق وزیر داخلہ چودھری نثار میں چل رہا ہے دونوں ایک دوسرے پر تنقید کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔
ایک انٹرویو میں سابق وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے کہاکہ کچھ لوگ انھیں وفاقی کابینہ سے نکلوانا چاہتے تھے، چوہدری نثار ان کی خوشنودی حاصل کرنے کی جلدی تھی۔ انھوں نے سارے کام کو اسی طرح ترتیب دیاکہ انکی خوشنودی حاصل کرلی۔ وہ ادارے کی بات نہیں کرتے بلکہ فوج کا ایک گروہ تھا جس کی خوشنودی انہوں نے میری برطرفی سے حاصل کرنے کی کوشش کی،پارٹی چوہدری نثار کے بارے میں فیصلہ کرے، میرا ووٹ انھیں نکالنے کے حق میں ہو گا۔

ویڈیو 

پرویز رشید کا کہنا تھا کہ چوہدری نثارکو پارٹی میں نہیں ہونا چاہیے اور قیادت کو اس بارے میں فیصلہ کرنا چاہیے، اگر مجھ سے پوچھیں گے تو میں ضرورکہوں گا کہ چوہدری نثار کے بارے میں فیصلہ کرنا چاہیے۔ جب پارٹی امتحان میں تھی تو انھوں نے اسکی پالیسیوں کے خلاف گمراہ کن بیانات دیے۔چودھری نثار نے شیر کے نشان کے بغیر الیکشن لڑا تو ہارگئے تھے،مسلم لیگ ن کے علاوہ ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

ویڈیو 

جبکہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے سابق وزیراطلاعات پرویز رشید کے بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو شخص آج تک کونسلر کا الیکشن نہ لڑا ہو وہ مسلم لیگ کا خود ساختہ پردھان منتری بن بیٹھا ہے، نیوز لیکس کی رپورٹ منظر عام پر لائی جائے تو بیان دینے والے شخص کے کرتوتوں کا علم سب کے سامنے آ جائیگا،انہوں نے پرویز رشید کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔
سابق وفاقی وزیر داخلہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق چوہدری نثار علی خان کسی ایسے شخص کی مضحکہ خیز باتوں کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتے جس کا خود مسلم لیگ (ن) سے تعلق واجبی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے ایک ایسا شخص جس نے آج تک کونسلر کا الیکشن نہ لڑا ہو اور جس کی بیشتر زندگی ایک دوسری پارٹی میں گزری ہو تعجب ہے وہ آج مسلم لیگ (ن) کا خود ساختہ پردھان منتری بن بیٹھا ہے۔چودھری نثار کے ترجمان نے پرویز رشید پر جوابی حملہ کر دیا، کہتے ہیں پرویز رشید مسلسل غلط بیانی اور خوشامد کے عادی ہیں، انہی دو خصوصیات کی وجہ سے وہ اس وقت ن لیگ سیاسی ارسطو بنے بیٹھے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے بہتر ہوگا کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں محمد نواز شریف اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی خود نیوزلیکس رپورٹ منظر عام پر لانے کے احکامات جاری کردیں تاکہ بیان دینے والے شخص کے کرتوتوں کا علم سب کے سامنے آ جائے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کیا یہ انتہائی ستم ظریفی نہیں ہے کہ پاکستان کی فوج کے بارے میں مودی جیسی سوچ رکھنے والا شخص پاکستان کی خالق جماعت کا سیاسی وارث بن بیٹھا ہے۔