معاملات درست کرلیں اگر کوئی سمجھتا ہے کہ راجہ مدد کریگا تو ایسا کچھ نہیں:چیف جسٹس

معاملات درست کرلیں اگر کوئی سمجھتا ہے کہ راجہ مدد کریگا تو ایسا کچھ نہیں:چیف جسٹس


اسلام آباد(24نیوز) سپریم کورٹ کا مری میں غیر قانونی تعمیرات کیخلاف ازخود نوٹس کی سماعت، چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ احتجاج کرنا ہے تو کریں، غیر قانونی عمارتوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے مری میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ غیرقانونی تعمیرات پر مری میں منادی کرادی ہے۔ ان افراد کو نوٹسز کو جاری کر دیئے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ قانون کے خلاف تعمیرات پر کارروائی ہوگی۔ مری کے پہاڑ اب وہ پہاڑ نہیں رہے۔ 15 دنوں کا وقت دیتے ہیں معاملات درست کرلیں۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ راجہ مدد کریگا تو ایسا کچھ نہیں۔ قانون کی اجازت جہاں تک ملتی ہے وہ دیں۔

سرکاری وکیل نے اپنا موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ125 افراد کو نوٹسز جاری کئے گئے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ جو بھی غیر قانونی تعمیرات ہیں ان کو کوئی رعایت نہیں ملے گی۔ کوئی بھی بڑا آدمی ہو اس کو رعایت نہیں ملے گی۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ 35 عمارتوں کو منہدم کر دیا گیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ سچ جس نے بول دیا اس کو نقصان نہیں ہوگا۔ جہاں جرمانہ ہوتا ہے وہاں معاملہ حل کریں۔ چیف جسٹس نے وکیل بابر اعوان سے استفسار کیا کہ بابراعوان آپ نے بھی کوئی شادی حال بنایا ہے۔ بابر اعوان نے جواب دیا کہ میرا ایسا کوئی کاروبار نہیں لیکن سوچوں گا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ٹھیک ہے سوچیئے گا مگر قانون کے مطابق۔احتجاج کرنا ہے تو کریں ۔ قومیں دھرنوں سے نہیں ڈرتی۔ ناجائز دھرنے اور احتجاج کرنے والوں کو شرم آنی چاھیئے۔ کیس کی سماعت3ہفتے کے لیے ملتوی کردی گئی۔