جج ارشد ملک ویڈیو سکینڈل:چیف جسٹس کا وکیل کو اہم مشورہ

جج ارشد ملک ویڈیو سکینڈل:چیف جسٹس کا وکیل کو اہم مشورہ


اسلام آباد(24نیوز) سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ویڈیو سے متعلق کیس میں اٹارنی جنرل سے تجاویز طلب کرلیں۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے جج ارشد ملک کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیے جب کہ دورانِ سماعت عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کہا گیا کہ ویڈیو کے معاملے پر ازخود نوٹس لیں ، لوگوں کے کہنے پر کوئی کام کریں گے تو کیا ہم آزاد ہونگے؟

عدالت نے مزید کہا کہ ازخود نوٹس کسی کے مطالبے پر لیں تو یہ ازخود نوٹس تو نہ ہوا، جج کا معاملہ عدالت دیکھے گی، جو دھول بھی اٹھ رہی ہے اسے چھٹنا چاہیے۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ اصل معاملہ عدلیہ کی ساکھ ہے، لوگوں کو عدلیہ پر اعتماد نہیں ہوگا تو انصاف کیسے ہوگا، بنیادی مسئلہ ہی عدلیہ کے اعتماد کا ہے۔

درخواست گزار اکرام چوہدری نے کہا کہ عوام کا عدلیہ پر احترام مجروح ہوا ہے، اس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہمیں ہدایت دینے کی ضرورت نہیں کہ تحقیقات کیسے ہوں، اس میں کوئی شک نہیں کہ اس معاملے میں غیر معمولی باتیں بھی ہیں، تحقیقات کس مرحلے پر ہوں، سوال یہ ہے کہ تحقیقات کس طرح سے کی جائے۔

درخواست گزار کے وکیل طارق اسد نے کہا کہ میری بیگم ٹی وی دیکھتی ہے تو میں کمرہ چھوڑ دیتا ہوں، چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ کمرہ چھوڑنے کے  بجائے ٹی وی کا بٹن دبا دیا کریں،طارق اسد نے کہا کہ  یہ کیس سبق دینے والا ہے، اس کی تحقیقات ہونی چاہیں۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جواب دیا کہ آپ چاہتے ہیں کہ جوڈیشل کمیشن بنایا جائے، طارق اسد پھر بولے میں چاہتا ہوں جوڈیشل کمیشن اس کی تحقیقات کرے،  چیف جسٹس نے پھر استفسار کیا کہ کس کی سربراہی میں کمیشن ہونا چاہیے، طارق اسد نے جواب میں کہا کہ سپریم کورٹ کے کسی بھی جج کی سربراہی میں کمیشن بنا سکتے ہیں۔

جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کے حوالے سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی جس پر 16 جولائی کو سماعت ہوگی۔ اس حوالے سے تین رکنی بنچ قائم کیا گیا جس کے سربراہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ ہیں جبکہ دیگر ارکان میں جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس عمر عطاء بندیال شامل ہیں۔

خیال رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر2 کے جج ارشد ملک اہم کیسز کی سماعت کررہے تھے جن میں سابق صدر آصف زرداری کے خلاف جعلی اکاؤنٹس کیس، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف رینٹل پاور کیس اور سابق وزیراعظم شوکت عزیز کے خلاف ریفرنس بھی شامل ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نوازشریف کو جج ارشد ملک نے ہی العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی جب کہ فلیگ شپ ریفرنس میں بری کیا تھا۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer