اسلام آباد:اساتذہ سڑکوں پر، تدریسی عمل رک گیا

اسلام آباد:اساتذہ سڑکوں پر، تدریسی عمل رک گیا


اسلام آباد(24نیوز) قائد اعظم یونیورسٹی کے اساتذہ کا وائس چانسلر کی غلط پالیسیوں کے خلاف احتجاج ،مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ وائس چانسلر یونیورسٹی کی اراضی بیچنا چاہتا ہے، فنڈز کو اپنے ذاتی اکائونٹ میں رکھ کر ان منافع بھی کماتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی میں اساتذہ کے بائیکاٹ اور احتجاج کے باعث تدریسی عمل رک گیا۔کئی روز سےاساتذہ وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اشرف کے خلاف احتجاج پر ہیں۔اساتذہ کا کہنا تھا کہ انہیں ہراساں کر کے وائس چانسلر کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:فیصل آباد:گورنمنٹ علی گڑھ گرلز کی اسکول انتظامیہ نے لاپرواہی کی انتہا کردی 

 واضح رہے کہ قائد اعظم یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر پر الزام ہے کہ وہ یونیورسٹی کی زمین کو بیچنا چاہتے ہیں۔ساتھ ہی یونیورسٹی کے پیسے اپنے اکاؤنٹ میں رکھ کر اس پر منافع کما رہے ہیں۔ سرکاری رہائش گاہ بھی وائس چانسلر کے زیر استعمال ہے اور ہاؤس رینٹ بھی لے رہے ہیں۔

یونیورسٹی ذرائع کے مطابق مسلسل احتجاج کے باعث یونیورسٹی ایڈہاک ملازمین سر پر چل رہی ہے۔ مظاہرین نے وائس چانسلر سے استعفے کا مطالبہ کردیا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ استعفے تک ان کا احتجاج جاری رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں:ٹوئنٹی فور نیوز کی خبر پر ایکشن, گورنمنٹ اسکول کی خستہ حالی پر ارباب اختیار نے نوٹس لے لیا 

 دوسری جانب وائس چانسلر نے موقف اختیار کیا کہ ہڑتال کر کے اساتذہ اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی ملک کی بہترین جامعات میں سے ایک ہے۔