سعودی صحافی کا قتل،شاہی خاندان گو مگو کا شکار

سعودی صحافی کا قتل،شاہی خاندان گو مگو کا شکار


ریاض( 24نیوز )امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب سعودی صحافی جمال خاشقجی کے حوالے سے رپورٹ تیار کر رہا ہے کہ اسکی موت دوران تفتیش ہوئی جو اپنی نوعیت کا ایک حادثہ ہے ،اس معاملے پر دنیا کی بڑی قوتیں ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار ہیں۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے شاہ سلمان کے ساتھ فون پر بات چیت کے بعد کہا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کے پیچھے کچھ”بدمعاش قاتل“ بھی ہو سکتے ہیں اور وہ وزیر خارجہ مائیک پومپیو کو اس حوالے سے بات چیت کے لیے سعودیہ روانہ کر رہے ہیں ۔

دوسری طرف ترکی اور سعودی عرب کی مشترکہ تفتیشی ٹیم نے استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں تحقیقات شروع کر دی ہیں، ترک حکام کا دعویٰ ہے کہ سعودی حکومت کے ناقد جمال خاشقجی کو قونصل خانے میں قتل کر دیا گیا تھا، تاہم سعودی حکومت اس کی تردید کرتی ہے۔

سعودی صحافی کے قتل کے حوالے سے مغربی ممالک کے سخت ردعمل کا جواب دیتے ہوئے سعودی عرب کا کہنا ہے کہ سعودی عرب غلط الزامات پر سیاسی دباو¿ بڑھانے کیلئے اپنے خلاف معاشی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکیوں کو مکمل مسترد کرتا ہے،خاگر اس قسم کا کوئی بھی اقدام کیا گیا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا، کیونکہ سعودی عرب کی معیشت عالمی اقتصادیات میں انتہائی اہم اور موثر مقام رکھتی ہے۔

جمال خاشقجی کے دوست عبد العظیم حسن الدفراوی کا کہنا ہے کہ جمال خاشقجی کے پاس سعودی شاہی خاندان کی کرپشن، ان کے دہشت گردوں کے ساتھ تعلق اور اندرونی سیاست کے بارے میں اہم معلومات تھیں جس کے باعث اسے قتل کر دیا گیا ۔