طیبہ تشدد کیس میں ملوث سابق ایڈیشنل جج ،اہلیہ کو ایک سال قید کی سزا

طیبہ تشدد کیس میں ملوث سابق ایڈیشنل جج ،اہلیہ کو ایک سال قید کی سزا


اسلام آباد (24نیوز) کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ پر تشدد کا معاملہ، اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس کا فیصلہ آگیا۔  سابق ایڈیشنل جج   اور ان کی اہلیہ کو ایک سال قید کی سزا  اور پچاس پچاس ہزار جرمانہ کردیا گیا۔ میاں بیوی کو عدالت سے گرفتارکرلیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق 27 دسمبر 2016 کو کمسن گھریلو ملازمہ کے ساتھ تشدد کیا گیا تھا۔ سوشل میڈیا پر تصویریں وائرل ہونے کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور 29 دسمبر 2016 کو طیبہ کو پولیس نے  سابق ایڈیشنل سیشن جج راجا خرم کے گھر سے طیبہ کو تحویل میں لے لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا پولیس کی قربانیاں رنگ لے آئیں

واقعہ میں ملوث دونوں ملزمان کے خلاف تھانہ آئی نائن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، 3 جنوری 2017 کو طیبہ کے والدین نے راجا خرم اور ان کی اہلیہ کو معاف کردیا تھا تاہم راضی نامہ سامنے آنے پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے از خود نوٹس لے لیا تھا۔

سپریم کورٹ کے حکم پر پولیس نے 8 جنوری 2017 کو طیبہ کو بازیاب کراکے پیش کیا تھا جبکہ عدالتی حکم پر 12جنوری 2017 کو راجا خرم علی خان کو بطور جج کام سے روک دیا گیا تھا۔ اس کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان نے مقدمے کا ٹرائل اسلام آباد ہائیکورٹ کو بھجوادیا تھا جہاں 16 مئی 2017 کو ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

ضرور پڑھیں: فالج کے مریضوں کے لیے خوشخبری

اس مقدمہ میں مجموعی طور پر 19 گواہان کے بیانات لیے گئے تھے جن میں 11 سرکاری جبکہ طیبہ کے والدین سمیت 8 غیر سرکاری افرادشامل تھے۔

اسی سلسلے میں آج بروز منگل کو کیس کا فیصلہ سنایا گیا۔ فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس عامر فاروق نے سنایا۔