ایف بی آر کا کرپٹ افسروں کے مقدمات نیب کو بھیجنے سے انکار


اسلام آباد(24نیوز) ایف بی آر کے کرپٹ افسران کو بچانے کی کوششیں تیز کر دی گئیں، ایف بی آر کے اعلی افسران کرپٹ افسران کو تحفظ فراہم کرنے لگے، کروڑوں روپے کی کرپشن میں ملوث افسران کے کیسز نیب کو بھیجنے سے انکار کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق ایف بی آر میں کرپشن کا دور دورہ ہے،کروڑوں روپے کی کرپشن میں ملوث افسران کا بال تک کوئی بھیکا نہیں کرسکتا. کرپشن میں ملوث افسران کے خلاف سالہا سال سے انکوائریز زیر التواء ہیں مگر کسی کو سزا نہیں دی گئی.

ایف بی آر کے کرپٹ افسران کے خلاف کارروائی روک دی گئی ہے ایف بی آر کرپٹ افسران کے خلاف کیسز نیب کو بھیجنے پر رکاوٹ بن گیا ممبر ایڈمن تسنیم رحمان نے کرپٹ افسران کے خلاف کیسز نیب کو بھیجنے کی مخالفت کردی ہے. ممبر ایڈمن ایف بی آر کیکرپٹ افسران کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کرنے لگی ہیں ۔

ایف بی آر کے اعلی افسران نے اپنے پیٹی بھائیوں کے خلاف سینکڑوں انکوائریاں دبا دی گئی ہیں 2015 سے اب تک 300 افسران کے خلاف انکوائریز کو حتمی شکل نہ دی جاسکی. کروڑوں روپے کی کرپشن میں ملوث افسران کے خلاف انکوائریز شروع ہی نہ ہوسکیں کرپشن میں ملوث درجنوں افسروں کو بحال کردیا گیا کئی افسران کو اگلے عہدوں میں ترقی دے دی گئی جب کہ بیشتر افسران کو معمولی سزا دے کر چھوڑ دیا گیا ہے

2013 خانیوال میں نوجوان محمد عثمان کو زمین کے تنازعے پر قتل کر دیا گیا، عثمان کا بھائی فائرنگ سے زخمی ہوکر معذور ہوگیا، پانچ سال گزر گئے والدین انصاف کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھارہیہیں، قاتل کی گرفتاری کیلئے اسلام آباد پریس کلب کے باہر دھرنا دے دیا۔