گلگت کے اضلاع نگر اور ہنزہ گلوبل وارمنگ کے خطرات سے دوچار

گلگت کے اضلاع نگر اور ہنزہ گلوبل وارمنگ کے خطرات سے دوچار


گلگت(24نیوز) گلگت بلتستان میں گلیشئرز پھٹنے کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ سال شیسپئر چوٹی سےگلیشئر گرنے سے بننے والی مصنوعی جھیل پر پھر گلیشئر گر گیا۔گلیشیئر روزانہ 7 میٹر آبادی کی جانب سرک رہا ہے۔ممکنہ تباہی کے پیش نظر عارضی پل کا بھی انتظام کیا گیا ۔

ضرور پڑھیں:ڈالر سستا ہوگیا

گلگت کےاضلاع نگر اور ہنزہ گلوبل وارمنگ کے خطرات سے دوچار ہیں۔ گلیشئر تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ جیالوجیکل ماہرین کہتے ہیں گلگت بلتستان کے 6 ہزار سے زائدگلیشئرز موسمیاتی تبدیلیوں کی زدمیں آگئے۔

شیسپئرگلیشئر روزانہ 7 میٹر آبادی کی طرف سرک رہا ہے ۔نومبر سے اب تک 1900میٹر سرک چکا۔ وادی ہنزہ اور قراقرم ہائی وے پر خطرات منڈلانے لگے۔ گلیشئرگرڈ اسٹیشن کےنزدیک پہنچ چکا۔آبادی کومحفوظ مقامات پرمنتقل کرنے کے انتظامات کوحتمی شکل دے دی گئی ۔ گلگت بلتستان حکومت،پاک فوج، نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ روزانہ کی بنیاد پرگلیشئر سرکنے کی رپورٹس مرتب کر رہے ہیں۔

شیسپئرگلیشئر گرنے سے بننے والی برفانی جھیل جم کر برفانی تودے کی شکل اختیار کر چکی ۔جھیل پھٹی تو سب سے زیادہ حسین آباد گاؤں کو ہوگا۔ڈی جی ، جی بی ڈی ایم اے کا کہناہےگلیشئر اپنی جگہ سے ہٹ چُکا ہے۔یہ کب رُکے گا کچھ کہہ نہیں سکتے۔

گلگت بلتستان میں گلوبل وارمنگ کے سبب رونما ہونے والےممکنہ خطرات سے بچاؤکےلئے اداروں کوبروقت اقدامات کی ضرورت ہے ۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔